خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 736
خطبات ناصر جلد اوّل دنیا میں قائم کریں گے۔۷۳۶ خطبہ جمعہ ۹ جون ۱۹۶۷ء ابراهیمی دعاؤں اور ان پیشگوئیوں کے مطابق جو پہلی کتب میں پائی جاتی تھیں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ایک اُمت مسلمہ کو قائم کیا۔جیسا کہ قرآن کریم سورہ حج میں فرماتا ہے۔وَ جَاهِدُوا فِي اللهِ حَقَّ جِهَادِهِ هُوَ اجْتَبكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ هُوَ سَمَّكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قَبْلُ وَ فِي هَذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا b عَلَيْكُمْ وَ تَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ فَأَقِيمُوا الصَّلوةَ وَ أَتُوا الزَّكَوةَ وَ اعْتَصِمُوا بِاللهِ ۖ هُوَ موليكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلى وَنِعْمَ النَّصِيرُ - (الحج : ٧٩) یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ اپنی تمام قوت اور اپنی تمام طاقت اور اپنی تمام استعداد کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو اور اس کوشش اور جہاد کو اپنے کمال تک پہنچاؤ (حق جهَادِہ ) اس کے حق کو پورا کرو کیونکہ اس نے تمہیں مجتبی بنایا ہے اور تمہیں بزرگی بخشی ہے اور کامل دین تمہیں دیا ہے۔بہترین احکام تمہارے لئے نازل کئے ہیں اور ان احکام کی پیروی کرنے کے لئے جن قوتوں اور طاقتوں کی ضرورت تھی وہ بھی ساتھ ہی تمہیں عطا کی گئی ہیں۔اس لئے ان حکام کی پیروی کرنے سے تم پر کوئی بوجھ نہیں پڑتا تمہارے باپ ابراہیم کی ملت ! اللہ نے تمہیں المُسْلِمِینَ کا نام دیا ہے۔امت مسلمہ قرار دیا ہے تمہارے متعلق یہ نام پہلی کتب میں بھی استعمال ہوا تھا اور قرآن کریم بھی تمہیں اُمَّةٌ مُسْلِمَةٌ - اَلْمُسْلِمِینَ کے نام سے یاد کرتا ہے اور سیہ نام ان دعاؤں کے نتیجہ میں ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی تھیں کہ ایک اُمت مسلمہ دنیا میں قائم کی جائے (اس افضل الرسل کی بعثت کے ساتھ ) اور ان کی اولا د بھی اُمت مسلمہ میں شامل ہو پس خانہ کعبہ کے مقاصد کے ساتھ تعلق رکھنے والی جو آیات ہیں ان میں وَمِنْ ذُرِّيَّتِنا أمَّةٌ مُسْلِمَةً تَک کی جو دعا تھی۔قرآن کریم سورہ حج کی اس آیت میں یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ دعا قبول ہوگئی اور جو پیشگوئیاں پہلی کتب میں دی گئی تھیں ان کے پورا ہونے کا وقت آگیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہو چکے ہیں اور امت مسلمہ قائم ہوگئی ہے اور اس لئے قائم ہوئی