خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 738 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 738

خطبات ناصر جلد اوّل ۷۳۸ خطبہ جمعہ ۹ جون ۱۹۶۷ء نازل ہو گی جو انسانی فطرت کے سب بچے اور حقیقی تقاضوں کو پورا کرنے والی ہوگی۔ہر استعداد اس سے فیض یاب ہوگی اور ہر فطرت صحیحہ اپنے ظرف کے مطابق اس سے حصہ لے گی ہر زمانہ کے مناسب حال ، ہر قوم کے مناسب حال، ہر فرد کی استعداد کے مناسب حال اس میں تعلیم موجود ہوگی اور موجودرہے گی۔الْمَنَاسِكَ، الْمَنْسَكُ اور الْمُنْسِك کی جمع ہے۔اس کے معنی ہیں زہد وعبادت، وہ کام جو حصول قرب الہی کے لئے کئے جاتے ہیں۔یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا اَرِنَا الْمَنَاسِكَ عبادت کے کامل طریق ہمیں بتا بلکہ یہ فرمایا ہے ارنا مناسگنا ہمارے مناسب حال جو کامل طریق عبادت کے ہیں وہ ہمیں سکھا اور یاد رہے کہ صرف قرآنی شریعت ہی ایسی ہے جس میں یہ گنجائش موجود ہے پہلی شرائع میں یہ گنجائش موجود نہیں تھی جب اُمتِ مسلمہ کا وجود قائم ہو گیا اور قرآن کریم کی شریعت ان پر نازل ہو چکی۔تب آرنا مناسگنا کی دعائے ابراہیمی قبول ہوئی تو ارنا مناسگنا میں یہ دعا کی گئی ہے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں موقعہ اور محل کے مطابق احسن عمل کے انتخاب کی ہمیں توفیق عطا کر چنانچہ قرآن کریم نے بہت زور دیا ہے اس بات پر کہ قرآنی تعلیم کے مختلف پہلو ہوتے ہیں یعنی ہر حکم کے مختلف پہلو ہوتے ہیں، جو قرآن کریم نے دیا ہے تو جو پہلو موقعہ اور محل اور تمہاری اپنی استعداد کے مطابق ہے اس پہلو سے اس عمل کو اختیار کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ بعض لوگ اپنی استعداد سے بڑھ کر عبادتوں میں مجاہدہ کا رنگ اختیار کرتے ہیں ، بہت لمبا عرصہ روزے رکھتے ہیں یا نیند کو بہت کم کر دیتے ہیں۔حالانکہ ان کے جسم اس کی برداشت نہیں کر سکتے اور نتیجہ اس کا یہ نہیں نکلتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قرب کو حاصل کر لیں بلکہ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ پاگل ہو جاتے ہیں یا ان کو بعض اور عوارض لاحق ہو جاتے ہیں کسی کو سل ہو جاتی ہے دق ہو جاتی ہے بعض اور بیماریاں ہیں جو ان کو لگ جاتی ہیں۔دعا یہاں یہ سکھائی گئی ہے وَ آرِنَا مَنَا گنا ہر قوم ہر زمانہ کے لحاظ سے اور پھر ہر قوم اور ہر زمانہ کے ہر فرد کے لحاظ سے جو مناسب عبادتیں اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے جو