خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 687 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 687

خطبات ناصر جلد اول ۶۸۷ خطبه جمعه ۱۲ رمئی ۱۹۶۷ سلامتی کے ساتھ بے خوف و خطران میں داخل ہو جاؤ تو یہ امن ہے جو قرآن کریم کے ذریعہ سے 66 اس کے کامل متبعین کو ملتا ہے۔فرمایا تھا " مَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِناً ، عین یہی الفاظ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمائے اور فرمایا کہ ہم نے تم سے وعدہ کیا تھا۔لَتَدخُلُنَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَمِنِيْنَ (الفتح: ۲۸) کہ تم مسجد حرام میں امن کے ساتھ داخل ہو گے اور وہ وعدہ پورا ہوا۔ایک تو اس کی ظاہری تفسیر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کے سامان پیدا کئے اور بغیر جنگ کے کفار مکہ نے ( جنہوں نے اپنی ساری عمریں اسلام کو مٹانے کے لئے صرف کر دی تھیں ) ہتھیار ڈال دیئے اور فرشتوں نے جن کا آسمان سے نزول ہوا ان کے دلوں میں اس قدر خوف پیدا کر دیا کہ لڑائی کی ان کو ہمت ہی نہ پڑی۔لیکن اس کے دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ تم ہی وہ امت ہو جو اس وعدہ کو پورا کر نیوالی ہو جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ان الفاظ میں کیا گیا تھا کہ وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا جو اس میں داخل ہو گا وہ امن میں آجائے گا تمہارے ذریعہ سے وہ وعدہ پورا ہوا میں اس کی وضاحت کر چکا ہوں کہ یہ تمام وعدے وہ ہیں جن کا تعلق تمام بنی نوع انسان سے ہے۔ہر قوم اور ہر زمانہ کے ساتھ کسی خاص قوم یا کسی خاص زمانہ کے ساتھ یہ مخصوص نہیں ہیں تو مَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا کے معنی یہ ہوئے کہ خواہ دنیا کی کسی قوم سے ہی تعلق نہ رکھتا ہو یا کسی زمانہ میں ہی رہنے والا کیوں نہ ہو جوشخص بھی مناسک حج خلوص نیت سے ادا کرے گا وہ نار جہنم سے محفوظ ہو جائے گا۔چنانچہ حدیث میں ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفَثْ وَلَمْ يَفْسُقُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ( یاد رکھیں کہ يَرْفَتْ اور يَرْفت اور يَفْسُقُ اور يَفْسِقُ دونوں طرح عربی زبان میں یہ الفاظ بولے جاتے ہیں ) کہ جوشخص گندی اور مخش باتوں سے پر ہیز کرے یعنی جو شخص حج کرے اور مناسک حج ادا کرتے ہوئے مخش کلامی سے بچتا ر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا اندرونہ اس قدر پاکیزہ ہو کہ مخش بات اس کی زبان پر آہی نہ سکتی ہو۔یہ مطلب نہیں کہ وہ باقی گیارہ ماہ کچھ دن تو ہر قسم کی فحش کلامی کرتا ر ہے صرف ان دنوں رفٹ سے بچے بلکہ