خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 686 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 686

خطبات ناصر جلد اول ۶۸۶ خطبه جمعه ۱۲ رمئی ۱۹۶۷ لاکھوں مقدسوں کا یہ تجربہ ہے کہ قرآن شریف کی اتباع سے برکاتِ الہی دل پر نازل ہوتی ہیں اور ایک عجیب پیوند مولا کریم سے ہوجاتا ہے اور ایک لذیذ محبت الہی جولذت وصال سے پرورش یاب ہے ان کے دلوں میں رکھی دی جاتی ہے اگر ان کے وجودوں کو ہاونِ مصائب میں پیسا جائے اور سخت شکنجوں میں دے کر نچوڑا جائے تو ان کا عرق بجز 66 حت الہی کے اور کچھ نہیں۔دنیا ان سے ناواقف اور وہ دنیا سے دور اور بلند تر ہیں۔“ یہ وہ مقامِ ابراہیم ہے جس کا وعدہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیا گیا۔اس کی بشارت اپنے رب کی طرف سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پائی اور خدا تعالیٰ جو سچے وعدوں والا ہے اس نے اپنے اس وعدے کو سچا ثابت کر دکھایا اور امت مسلمہ میں لاکھوں وجود ایسے پیدا کئے جو مقام ابراہیم تک پہنچنے والے تھے۔چھٹا وعدہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کیا گیا تھا وہ ان آیات کے اس ٹکڑے میں بیان ہوا ہے وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا۔“ میں نے بتایا تھا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جو بیت اللہ میں داخل ہو گا یعنی ان عبادات کو بجالائے گا جن کا تعلق خدا تعالیٰ کے اس گھر سے ہے۔دنیا اور آخرت کے جہنم سے خدا کی پناہ میں آجائے گا اور اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دئے جائیں گے اور نار جہنم سے وہ محفوظ ہو جائے گا وَمَنْ دَخَلَه كَانَ آمِنًا۔جو اس گھر میں داخل ہو گا اس آگ سے محفوظ ہو جائے گا ( جو خدا تعالیٰ نے منکروں کے لئے بھڑکائی ہے ) چنانچہ اللہ تعالیٰ سورہ نمل میں فرماتا ہے وَهُمْ مِنْ فَزَع يَوْمَنِ امِنُونَ (النمل: ۹۰) یعنی اسلامی ہدایت کے مطابق اعمالِ صالحہ بجالانے والوں کو اللہ تعالیٰ بہتر اور احسن بدلہ دے گا اور نفخ صور کی گھڑی میں ایسے لوگ خوف جہنم سے محفوظ رہیں گے۔اس وقت اللہ تعالیٰ ان کو یہ بشارت دے گا کہ تمہیں نار جہنم کی طرف نہیں لے جایا جائے گا بلکہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا اس واسطے کسی قسم کا خوف نہ کرو۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا۔اِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنْتٍ وَعُيُونٍ - اُدْخُلُوهَا بِسَلم أمِنينَ۔(الحجر : ۴۶ ،۴۷) متقی لوگ یقیناً باغوں اور چشموں والے مقام میں داخل ہوں گے انہیں کہا جائے گا کہ تم