خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 688
خطبات ناصر جلد اوّل ۶۸۸ خطبه جمعه ۱۲ رمئی ۱۹۶۷ مطلب یہ ہے کہ جس کا اندرونہ اتنا پاک ہو چکا ہو اور گندگی اس کے سینہ سے اتنی دور ہو چکی ہو کہ مخش بات، گندی بات اس کے منہ پر آہی نہ سکے اور جو حق اور صلاح کے طریق سے خروج نہ کرے یعنی شرعی حدود سے باہر نہ ہو ان کی پابندی کرنے والا ہو اور اطاعت کا حق ادا کرنے والا ہو۔تو جو شخص اس خالص نیت کے ساتھ اور ان خالص اعمال کے ساتھ اور ان پاکیزہ آداب کے ساتھ حج بیت اللہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ کا اس سے وعدہ ہے کہ اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور جس کے تمام پچھلے گناہ معاف ہو گئے وہ یقینا نار جہنم سے بچالیا گیا۔ایک اور طرح بھی انسان اس دنیا میں بھی اور اُس دنیا میں بھی نار جہنم سے بچ جاتا ہے اور وہ اس طرح کہ "مَنْ دَخَلَه“ جو مقامِ ابراہیم میں داخل ہو كَانَ آمِنًا “اللہ تعالیٰ کی امان میں اور امن میں آجاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔” خدا میں بے انتہاء عجیب قدرتیں ہیں مگر اس کی یہ عجیب قدرتیں ان ہی پر کھلتی ہیں جو اس کے ہی ہو جاتے ہیں اور وہی یہ خوارق دیکھتے ہیں جو اس کے لئے اپنے اندر ایک پاک تبدیلی کرتے ہیں اور اس کے آستانے پر گرتے ہیں اور اس قطرے کی طرح جس سے موتی بنتا ہے صاف ہو جاتے ہیں اور محبت اور صدق اور صفا کی سوزش سے پگھل کر اس کی طرف بہنے لگتے ہیں تب وہ مصیبتوں میں ان کی خبر لیتا ہے اور عجیب طور پر دشمنوں کی سازشوں اور منصوبوں سے انہیں بچالیتا ہے اور ذلت کے مقاموں سے انہیں محفوظ رکھتا ہے۔وہ ان کا متولی اور متعہد ہو جاتا ہے۔وہ ان مشکلات میں جبکہ کوئی انسان کام نہیں آسکتا ان کی مدد کرتا ہے اور اس کی فوجیں اس کی حمایت کے لئے آتی ہیں۔کس قدر شکر کا مقام ہے کہ ہمارا خدا، کریم اور قادر خدا ہے۔پس کیا تم ایسے عزیز کو چھوڑو گے؟ کیا اپنے نفس نا پاک کے لئے اس کی حدود کو توڑ دو گے؟ ہمارے لئے اس کی رضامندی میں مرنا نا پاک زندگی سے بہتر ہے۔“ یہ وہ امن ہے جو اس شخص کو حاصل ہوتا ہے جو اپنے پر ایک موت وارد کر کے نیستی کا لبادہ