خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 664 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 664

خطبات ناصر جلد اوّل ۶۶۴ خطبہ جمعہ ۱/۲۱ پریل ۱۹۶۷ء پیشگوئی پوری نہیں ہو سکتی تھی جب تک ایک ایسی اُمت دنیا میں پیدا نہ ہو جائے جو خیر الام ہو اور وہ اُمت پیدا نہیں ہو سکتی تھی جب تک کہ قرآن کریم کی شریعت جو کامل اور اکمل ہے اس کا نزول نہ ہو جائے اور ہر شریعت کا نزول قوم کی استعداد کے مطابق ہوتا ہے قرآن کریم کی شریعت چونکہ ہر پہلو اور ہر لحاظ سے کامل اور مکمل ہے اس لئے اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں (اور اس کے علاوہ کوئی نتیجہ اخذ نہیں کر سکتے ) کہ وہ اقوام جو اس زمانہ میں اور پھر قیامت تک اس کی مخاطب تھیں اور مخاطب رہیں گی وہ اپنی صلاحیتوں اور استعدادوں کے لحاظ سے قرآن کریم کی حامل ہو سکتی تھیں اور قرآن کریم کی تربیت کو قبول کرنے کے بعد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض اور برکات سے حصہ لینے کے بعد ان کی شکلیں ان کے حلئے کچھ اس طرح بدلے کہ ایک حقیقت بین نگاہ میں وہ نئے انسان بن گئے یعنی ان کی جو پہلی شکل تھی یا جو پہلے نقوش تھے ان کا کوئی حصہ باقی نہ رہا بلکہ نئے نقوش ابھر آئے جس طرح ریشم کا کیڑا جب ریشم بنا چکتا ہے تو اگر انسان اس کو موقع دے اور ریشم کا وہ جال جو اس نے اپنے ارد گرد بنایا ہوا ہوتا ہے اس میں سے باہر نکل آئے تو وہ پہلا کیڑا نہیں رہتا بلکہ اس کا پہلا سر۔پہلی آنکھیں اور پہلا حلیہ بالکل بدل جاتا ہے پہلے اس کے پر نہیں ہوتے لیکن ۲۴ یا ۴۸ گھنٹوں کے اندراندر اس کے پر نکل آتے ہیں۔نیا سر پیدا ہو جاتا ہے، نئی آنکھیں پیدا ہو جاتی ہیں بالکل یہی مثال ان لوگوں کی ہے کہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے پہلے وہ زمین کے کیڑے تھے اور بعد میں ان کو اللہ تعالیٰ نے نئی بصارت دی، نئی آنکھیں دیں، نئے دماغ دیئے۔پرواز کی نئی قوت عطا کی پھر وہ آسمان کی وسعتوں میں اڑنے لگے اور جب یہ قوم پیدا ہو گئی تو وضع لِلنَّاس کا وعدہ بھی پورا ہو گیا۔اس سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ اس قوم پر جس کو قرآن کریم خیر امت کہہ رہا ہے دنیا کی خدمت کرنے کے سلسلہ میں کس قسم کی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین ) روزنامه الفضل ربوہ ۷ رمئی ۱۹۶۷ ء صفحہ ۱ تا ۵)