خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 663 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 663

خطبات ناصر جلد اول ۶۶۳ خطبہ جمعہ ۱/۲۱ پریل ۱۹۶۷ء نے انسان انسان کی مساوات اور اخوت اور پیار کو ان تین ستونوں پر قائم کیا ہے۔اس وقت کافی دیر ہوگئی ہے۔مگر میں یہ چاہتا تھا کہ اس مقصد پر تفصیل سے بات ہو جائے کیونکہ یہ مقصد تیئیس مقاصد میں سے ایک بنیادی چیز ہے۔آخری مقصد بھی ایسا ہی اہم ہے بیچ میں سے ہم جلدی نکل جائیں گے۔اس سلسلہ میں ایک دوست نے خواب بھی دیکھی ہے۔(انہیں تو اس کی تعبیر سمجھ نہیں آئی تھی) چند دن ہوئے انہوں نے مجھے لکھا کہ میں نے دیکھا کہ میں (اور میرے ساتھ کچھ دوست اور بھی ہیں ) قادیان کے اسی چوک میں ہوں جس میں مسجد مبارک کے اس حصہ کی سیڑھیاں اترتی ہیں جو بعد میں بڑھایا گیا تھا ( یہاں بہت سارے عزیز بچے ایسے بھی ہوں گے جنہوں نے قادیان دیکھا ہی نہیں اور وہ سمجھ ہی نہیں سکتے لیکن جنہوں نے قادیان دیکھا ہے وہ سمجھ سکتے ہیں کہ مسجد مبارک کے اس حصہ کو جو نیا بنا تھا سیڑھیاں ایک چوک میں اترتی تھیں۔اس دوست نے لکھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ہم اس چوک میں کھڑے ہیں ) آپ بڑی تیزی سے آئے ہیں۔آپ کے چہرے پر بشاشت اور ر وفق ہے۔آپ کچھ سیڑھیاں چڑھتے ہیں اور پھر ہماری طرف دیکھتے ہیں پھر کچھ اور سیڑھیاں چڑھتے ہیں اور ہماری طرف دیکھتے ہیں۔دو دفعہ آپ نے ایسا کیا ہے اور پھر آپ ساری سیڑھیاں چڑھ گئے ہیں۔پھر آپ نے اذان دی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ عصر کی نماز کا وقت ہے اس لئے آپ نماز عصر پڑھا ئیں گے۔لیکن نماز سے پہلے جو اذان آپ نے دی ہے ہم نے محسوس کیا کہ وہ معمول سے زیادہ لمبی ہے اور یہ حصہ مضمون جو میں بیان کر رہا ہوں ایک خاص پروگرام کی طرف بلانے کا ہی رنگ رکھتا ہے۔تا کہ جس وقت میں اس پروگرام پر آؤں تو آپ پس منظر سے پوری طرح واقفیت حاصل کرنے کے نتیجہ میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے لگیں۔(اور اذان کا زیادہ لمبا ہونا اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے) غرض وضعَ لِلنَّاسِ ایک مقصد بیت اللہ کی تعمیر کا تھا اور چونکہ یہ اس لحاظ سے بڑا ہی اہم ہے کہ باقی سارے مقاصد کا اس پہلے مقصد کے ساتھ یا پھر جو آخری مقصد رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِكَ الخ میں بیان ہوا میرا اس کے ساتھ گہرا تعلق ہے اور میں چاہتا تھا کہ اس مقصد کو تفصیل کے ساتھ بیان کروں تا آپ اچھی طرح سمجھ جائیں کہ وضع للناس کی