خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 665
خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۵ رمئی ۱۹۶۷ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ذریعہ کعبتہ اللہ کی عالمگیر برکات کا ظہور خطبه جمعه فرموده ۵ رمئی ۱۹۶۷ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد ، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور پر نور نے آیت إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَةَ مُبَرَكَا وَهُدًى لِلْعَلَمِينَ (ال عمران: ۹۷) کی تلاوت فرمائی۔پھر فرمایا۔دوا یک روز سے شدید نزلہ کا حملہ پھر ہو گیا ہے جس کا اثر گلے پر بھی ہے ویسے بھی بڑی تکلیف ہے لیکن مجھ سے رہا نہیں گیا۔میں نے سمجھا کہ میں دوستوں سے مل لوں اور جو مضمون میں نے شروع کیا ہوا ہے اس کا کچھ حصہ آج بیان کروں۔اللہ تعالیٰ توفیق عطا کرے۔میں بتا رہا ہوں کہ ان آیات کریمہ میں جو تنیس مقاصد تعمیر بیت اللہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔وہ بعثت نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے کس طرح پورے ہوئے پچھلے ایک خطبہ میں وُضِعَ لِلنَّاسِ کی تفسیر اس پس منظر میں میں نے پیش کی تھی۔دوسرا مقصد جوان آیت میں بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ خانہ کعبہ مبارک ہے میں نے بتایا تھا مُبارک کا لفظ یہاں دو معنوں میں لیا جا سکتا ہے۔اول یہ کہ خانہ کعبہ اقوام عالم کے نمائندوں کی قیام گاہ بنے گا اور تمام اقوام سے ایسے لوگ یہاں جمع ہوتے رہیں گے جو روحانی میدانوں کے شیر ہوں گے۔بہادری کے ساتھ ثابت قدم رہنے والے ابطال کی یہ قیام گاہ ہوگی تاریخ اس