خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 660
خطبات ناصر جلد اوّل ۶۶۰ خطبہ جمعہ ۲۱ را پریل ۱۹۶۷ء شفقت کرنے والا اور زیادہ رحم کرنے والا تھا اس نے ہمیں زیادہ دے دیا۔دوسروں کو پیدا کرنے والا رب علم میں زیادہ نہیں تھا اس کی قدرت زیادہ نہ تھی اس میں رحم زیادہ نہ تھا اس کو اپنی مخلوق کے ساتھ وہ محبت نہیں تھی جو ہمارے رب نے ہم سے کی اس لئے ان کو کم چیز میں ملی ہیں اس لئے یہ اس لحاظ سے کم تر ہو گئے ہیں۔مگر جب تمہارا رب ایک ، جب تمہارا باپ ایک تو تمہیں یہ جان لینا چاہیے کہ کسی عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے نہ کسی سیاہ کو سرخ رنگ والے پر کوئی فضیلت حاصل ہے اور نہ کسی سرخ رنگ والے کو سیاہ فام پر کوئی فضیلت حاصل ہے اور ایک اور جگہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ نہ کسی سرخ رنگ والے کو کسی سفید فام پر کوئی فضیلت حاصل ہے اور نہ کسی سفید فام کو سرخ رنگ والے پر کوئی فضیلت حاصل ہے فضیلت کا معیار تمہارے رب کی نگاہ میں اور ان استعدادوں کے نتیجہ میں جو تمہارے اندر اس نے پیدا کی ہیں ایک ہی ہے اور وہ ہے تقویٰ۔خدا تعالیٰ کی نگاہ میں بزرگ تر وہ ہے جو زیادہ متقی ہے لیکن خدا تعالیٰ کی نگاہ کا تو تمہیں پتہ نہیں۔b لا تُزَكُوا أَنْفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى - (النجم : ٣٣) جب بزرگی کا انحصار اللہ تعالیٰ کی نگاہ پر ہوا اور ہمیں اس نگاہ کا پتہ نہیں کہ وہ پیار کی ہے یا غضب کی ہے تو پھر ایک دوسرے پر بزرگی نہ جتایا کرو۔یہ ایک مثال ہے جو میں نے دی ہے ور نہ اسلامی تعلیم ایسے احکام اور تعلیمات سے بھری پڑی ہے مثلاً اقتصادی لحاظ سے اسلام کسی کی برتری کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ امیر کو یہ کہتا ہے کہ جب تک غربت قائم ہے تیرا تیرے مال پر کوئی حق نہیں۔جیسے فرما یا :۔وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَتَّى لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ - (الثَّرِيت :۲۰) میرے نزدیک اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ جب تک ضروریات زندگی ہر فر د قوم کو نہیں مل جاتیں کسی مالدار کا اپنے مال پر حق باقی نہیں رہتا جب ضروریات زندگی پوری ہو جا ئیں پھر جو باقی بچتا ہے وہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے اسے جائز راہوں پر خرچ کرنے سے اسلام نہیں روکتا۔لیکن اگر ہمسایہ بھوکا ہو اور تم پانچ یا سات کھانے کھاؤ تو اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔پس کسی لحاظ سے