خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 661
خطبات ناصر جلد اول ۶۶۱ خطبہ جمعہ ۲۱ را پریل ۱۹۶۷ء بھی کسی قوم کو بحیثیت قوم کسی دوسری قوم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں مثلاً علم کے میدان میں سب دماغ ایک جیسے ہیں، ہر قوم میں بڑے اچھی صلاحیت والے اور جینیس (Genius) قسم کے دماغ بھی ہیں اور ہر قوم میں دماغی لحاظ سے خرد ماغ بھی ہیں۔ان کی اپنی اپنی صلاحیتیں ہیں لیکن یہ بات غلط ہے کہ کوئی قوم ساری کی ساری علم کے میدان میں خر دماغ ہو اور ایک دوسری قوم ساری کی ساری علم کے میدان میں جینیس (Genius) ہو۔یہ صحیح ہے کہ جو حاکم قومیں ہیں وہ اپنے گدھوں کو بھی رفعت کے مقام پر لے جاتی ہیں۔مثلاً میرے ساتھ ایک طالب علم آکسفورڈ میں پڑھا کرتا تھا وہاں طریق یہ ہے کہ جو طالب علم پڑھائی میں چل نہ سکے اس کا روپیہ ضائع نہیں کرتے بلکہ ایک ٹرم کے بعد جب وہ اپنے گھر جاتا ہے اور اس ٹرم کا نتیجہ نکلتا ہے تو اسے گھر میں خط بھیج دیتے ہیں کہ تمہیں واپس تشریف لانے کی ضرورت نہیں تم وہیں کام کرو۔انگریزی میں اسے کہتے ہیں Sent Home گھر بھیج دیا گیا۔اتفاقاً میرے گروپ کا ایک لڑکا دوسری ٹرم میں واپس نہ آیا۔مجھے اس وقت ان کے طریق کا علم نہیں تھا اس لئے میں نے دوستوں سے پوچھا کہ فلاں طالب علم کیوں نہیں آیا؟ کیونکہ مجھے یہ خیال بھی پیدا ہوا کہ بعض موتیں بھی ہو جاتی ہیں اور پھر حادثات بھی ہو جاتے ہیں پتہ نہیں کیا بات ہے کہ وہ لڑکا واپس نہیں آیا۔تو مجھے ایک دوست نے بتایا کہ He is sent home اس کو انہوں نے فارغ کر دیا ہے۔1944ء میں جب میں دہلی گیا تو پلیٹ فارم پر اتفاقاً ایک شخص پر نظر پڑی تو معلوم ہوا کہ یہ وہی لڑکا ہے وہ اس وقت انگریزی حکومت کا ایک بڑا افسر تھا اس نے مجھے پہچان لیا اور میں نے اس کو پہچان لیا۔ہم ایک دوسرے سے ملے میں نے دل میں کہا کہ چونکہ اس قوم کو دنیوی اقتدار حاصل ہے اس لئے یہ ہمارے ملک کے محاورہ کے مطابق اپنے گدھوں کو بھی افسر بنا دیتے ہیں اور افسر بھی ہمارے او پر۔غرض ہر قوم میں اچھے دماغ بھی ہیں اور بڑے دماغ بھی ہیں کوئی قوم ایسی نہیں ہے جس میں آپ کو یہ چیز نہ ملے۔کوئی قوم ایسی نہیں ہے جس کے سارے دماغ اچھے ہوں اور کوئی قوم ایسی نہیں ہے جس کے سارے دماغ برے ہوں۔اچھے اوسط درجہ کے اور بڑے سب ہی ہر قوم میں پائے جاتے ہیں غرض اسلام اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی امتیاز قائم رکھا جائے۔بلکہ وہ مساوات