خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 659
خطبات ناصر جلد اوّل ۶۵۹ خطبہ جمعہ ۱/۲۱ پریل ۱۹۶۷ء جب وہ تمام بنی نوع انسان کو اخوت اور مساوات کے مقام پر لا کھڑا کرے اور کسی امتیاز یا تفریق کو جائز نہ سمجھے۔چنانچہ وہ تمام باتیں جو انسانی عزت اور احترام کو قائم کرنے والی تھیں وہ اُمت مسلمہ کی شریعت میں قرآن کریم یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ یا احادیث میں پائی جاتی ہیں۔اسلام نے انسان انسان کے درمیان ہر امتیاز اور ہر تفریق کو مٹا کر رکھ دیا ہے اور اس طرح پر انسان کی عزت اور تو قیر کو قائم کیا ہے۔حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خطبہ دیا اس میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ الا ہوشیار ہو جاؤ اور کان کھول کر سنو کہ تمہارا رب ایک ہے وہ ایک ذات ہے جس کی ربوبیت کے نتیجہ میں تمام اقوام مختلف فاصلے طے کرتے ہوئے اس مقام پر پہنچ گئی ہیں کہ ان تمام اقوام کی روحانی اور اخلاقی استعداد میں اور صلاحیتیں ایک جیسی ہو گئی ہیں اور اب وہ آخری شریعت کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو گئی ہیں۔تمہارا پیدا کرنے والا ایک ہے اس نے تمہاری جسمانی اور روحانی استعدادوں کو ایک جیسا پیدا کیا ہے۔قوم قوم میں اس نے فرق نہیں کیا۔یہ صحیح ہے کہ افراد کا اپنا اپنا ایک ترقی کا دائرہ ہوتا ہے لیکن قوم قوم میں کوئی تفریق نہیں کی جاسکتی۔یہ نہیں کہ ایک قوم ذلیل یا حقیر ہے یا اس کی بناوٹ ہی ایسی ہے کہ وہ جسمانی یا روحانی یا علمی یا اخلاقی یا معاشرتی یا اقتصادی ترقی نہیں کر سکتی پس فرمایا کہ ہوشیار ہو جاؤ۔کان کھول کر سنو کہ تمہارا رب جس نے تمہیں پیدا کیا، جس نے تمہارے قومی کو پیدا کیا، جس نے تمہاری صلاحیتوں کو پیدا کیا ، جس نے تمہاری استعدادوں کو پیدا کیا پھر ان کی ربوبیت کی اور ارتقاء کے مدارج میں سے تم کو گزارا اور تمہاری نشو و نما کو کمال تک پہنچا یا وہ پاک ذات واحد ہے ایک ہے اور تم یہ بھی یاد رکھو کہ تمہارا باپ بھی ایک ہے یعنی تم سب آدم کی نسل سے ہو غرض تمہارا رب پیدا کرنے والا ایک ہے تمہارا باپ آدم ایک ہے۔اگر تم مختلف باپوں کی اولاد ہوتے تو تم کہتے ہم نے اپنے اپنے باپوں سے ورثہ حاصل کیا ہے اور ہمارا باپ بزرگ تر اور برتر تھا اس کے ورثہ میں ہمیں از خود یہ برتر رتبہ مل گیا ہے مگر ایسا کہنا درست نہیں کیونکہ باپ ایک ہے۔پھر اگر مختلف خدا ہوتے۔مختلف رب ہوتے تو کوئی قوم کہہ سکتی تھی کہ جس رب نے ہمیں پیدا کیا ہے وہ زیادہ طاقت ور اور زیادہ عالم اور زیادہ قادر اور زیادہ