خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 602
خطبات ناصر جلد اول ۶۰۲ خطبه جمعه ۱۰ / مارچ ۱۹۶۷ء زندہ موجود تھیں جن کو یہ اختیار دیا گیا تھا جن میں سے پانچ تو قریش مکہ کے مختلف خاندانوں سے تعلق رکھتی تھیں اور چار مختلف قبائل اور مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی تھیں اور ساری کی ساری ایسی تھیں کہ جو اس قدر تربیت یافتہ تھیں کہ ایک سیکنڈ کے لئے انہیں سوچنا نہیں پڑا فیصلہ ان کے دماغوں میں گویا پہلے ہی حاضر تھا۔انہوں نے کہا سوچنا کیسا ؟ اور مشورہ لینا کیسا ؟ ہمیں خدا اور اس کا رسول محبوب اور پیارے ہیں ہم اس ذمہ داری کو نباہنے کے لئے تیار ہیں کہ امت محمدیہ کے لئے ہم بطور اسوہ حسنہ اپنی زندگیاں گزاریں تو جس چیز کا ان کو ان آیات میں اختیار دیا گیا تھا وہ یہ نہیں تھا کہ چاہو تو طلاق لے لو چاہو تم بیویاں بن کے رہو۔میرے نزدیک اس اختیار کے یہ معنی بھی نہیں تھے کہ چاہو تو دنیا لے لو اور چاہو تو خدا کے راستہ میں فقر کو اختیار کرو بلکہ ان کو اختیار اس بات کا دیا گیا تھا کہ چاہو تو ان ذمہ داریوں کو اپنے کندھوں پر قبول کرو جو امت مسلمہ کے لئے اور اُمت مسلمہ کی مستورات کے لئے اسوۂ حسنہ بننے پر تمہارے کندھوں پر پڑنے والی ہیں اور چاہو تو ایک عام مسلمان عورت کی طرح اپنی زندگیوں کو گزار و اور ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ یاد رکھنا کہ اگر تم نے یہ عہد کرنے کے بعد وعدہ خلافی کی اور نقض عہد کے فاحشہ مبینہ میں تم پڑگئیں اور مبتلا ہو گئیں اور اپنے وعدے کو نہ نباہیا تو پھر دوسری عورتوں کو ان معاصی پر جس قسم کی سزامل سکتی ہے اس سے دو چند سزا تمہیں بھگتنی پڑے گی اور اگر تم نے اس عہد کو نباہا تو تمہارا اجر بھی دوسری عورتوں سے دگنا ہوگا۔یہ جو اجڑ ہے یہ حدود کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا ضِعْفَيْنِ کا اور مزتين کا تعلق حدود کے ساتھ نہیں اور نہ آپس کے جو حقوق ہیں ان کے ساتھ یہ تعلق رکھتا ہے یعنی یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر تم واقعہ میں اُسوۂ حسنہ بن گئیں تو اگر تم نے کسی سے پانچ روپے لینے ہوں گے تو تمہیں دس روپے دلوائے جائیں گے اسی طرح اگر بفرض محال تمہارا کوئی گناہ ہو گا جس پر حد لگ سکتی ہو تو یہ مطلب نہیں که حددگنی کر دی جائے گی حدود ایک مخصوص اور محدود دائرہ کے اندر چکر لگاتی ہیں اور جو ثواب ہے وہ بڑے وسیع معنی رکھتا اور اس کا تعلق اس دنیا کی جنت سے بھی ہے اور اُخروی جنت سے بھی ہے اور اس کے مقابل میں جو سزا ہے اس کا تعلق بھی اس دنیا کے جہنم اور اگلے جہان کے جہنم سے ہے۔