خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 603 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 603

خطبات ناصر جلد اوّل ۶۰۳ خطبہ جمعہ ۱۰ مارچ ۱۹۶۷ء تو یہاں یہ فرمایا کہ ہم تمہیں اس موقع پر کہ تمہیں امہات المؤمنین قرار دیا گیا ہے اور یہ اعلان کیا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام اُمت کے لئے اور ہر زمانہ کے لئے بطور اسوۂ حسنہ کے ہیں اور آپ کی پیروی کرنے اور آپ کی اتباع کرنے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل ہوتی ہے۔دنیا نے اب صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہی نہیں دیکھنا بلکہ اے ازواج مطہرات! دنیا کی عورتوں نے تمہاری طرف دیکھنا ہے اور تمہاری اُنہوں نے نقل کرنی ہے اگر تم نے صحیح نمونہ پیش کیا تو نیکی کے ایک تسلسل کو تم جاری کرنے والی ہوگی اگر تم نے برانمونہ پیش کیا تو بدی کے ایک تسلسل کو تم جاری کرنے والی ہوگی۔تو جیسا کہ حدیث میں آیا ہے جو شخص نیکی کی بنیاد ڈالتا ہے اور اس کے نتیجہ میں بہت سے لوگ نیکی کرنے لگ جاتے ہیں تو اس کو اپنی نیکی کی بھی جزاء ملے گی اور جن لوگوں نے اس کے کہنے کے مطابق یا اس کی نقل کرتے ہوئے نیکیاں کی ہیں ان کے ثواب میں بھی وہ حصہ دار ہوگا۔پس یہ ہے مرتین والی جزاء اور جو شخص بدی کی بنیاد ڈالتا ہے اور بدی کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے اور بدوں کا سردار بنتا ہے تو اس کو اپنے کئے کی سزا بھی بھگتنی پڑے گی اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے نتیجہ میں بھی اس کو ایک سزادی جائے گی اور یہ ہے (عَذَابِ ضِعْفَيْن) دگنا عذاب جوایسے لوگوں کو ملتا ہے۔اگلی دو آیات میں وجہ بیان کی گئی ہے کہ یہ اختیار دیا کیوں گیا تھا ؟ فرمایا کہ چونکہ ہم نے ان کو اس مقام پر لا کھڑا کیا تھا کہ وہ اُسوہ بنیں اور ایک نیک نمونہ قائم کریں اور جس شخص کو اس مقام پر کھڑا کیا جاتا ہے اور جس کے اعمال کے متعلق یہ امید رکھی جاتی ہے کہ بعد میں آنے والے اس کی نقل کریں ان کو اجر بھی دگنا دیا جاتا ہے اور ان کے اوپر ذمہ داری کے نتیجہ میں عذاب بھی دو چند نازل ہوتا ہے جیسا کہ اس کی وضاحت اللہ تعالیٰ نے دوسری آیات میں کئی جگہ کی ہے مثلاً ایک جگہ آتا ہے۔رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ اور اس آیت کے شروع میں وجہ بتائی ہے۔رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا (الاحزاب : ۶۸) ہم نے اپنے بڑوں کی ان کے کہنے کے مطابق نقل کی۔انہوں نے کہا ہم تمہارے لئے بطور نمونہ کے ہیں تم ہمارے پیچھے آؤ ہم تمہارے ذمہ دار ہیں۔( کہنے والے تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ جنت میں جانے کے لئے ایک سرٹیفکیٹ