خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 579 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 579

خطبات ناصر جلد اول ۵۷۹ خطبہ جمعہ ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء سے ہر ایک چیز کو ایک جیسی مفید سمجھتے ہو مثلاً تمہیں روپے پیسے سے بڑا پیار ہے۔لیکن جب بچہ بیمار ہو جائے یا جب تمہاری بیوی بیمار ہو جائے یا جب تم خود بیمار ہو جاؤ تو ساری دنیا کی دولت قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہو اپنے بچے کی جان کی حفاظت کے لئے یا اپنی بیوی کی جان کی حفاظت کے لئے یا خودا پنی جان کی حفاظت کے لئے۔پس اس دنیا کی ہر چیز جو ہے اس کو تم نے ایک ترجیحی سلسلہ کی کڑی میں پرویا ہوا ہے یہ اچھی چیز ہے اس سے بھی اچھی یہ ہے اس سے بھی اچھی یہ ہے اور اس سے بھی اچھی یہ ہے اور ایک انسان اپنی جان سے سب سے زیادہ محبت رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ میں زندہ رہوں اور عام طور پر لوگ دنیا کی اشیاء کو اپنے نفس پر قربان کر دیتے ہیں مگر اپنی جانوں کو دنیوی سامان پر قربان نہیں کرتے یا بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی جانوں کو اپنے بچوں پر قربان کر دیتے ہیں تو ان کے نزدیک ان کے بچے کی قیمت سب سے زیادہ ہے یہاں تک کہ ان کی اپنی جان سے بھی زیادہ ہے۔پس مجموعی طور پر جب ہم دنیا کی تمام اشیاء پر نظر ڈالتے ہیں تو ان کی ہمیں اوسط نکالنی پڑتی ہے۔مثلاً ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک چیز کی قیمت سو یونٹ ہے ایک اور چیز ہے اس کی اتنی ہے ایک اور چیز ہے اس کی پچاس ہے، ایک اور چیز ہے اس کی چالیس ہے، ایک اور چیز ہے اس کی قیمت اس کی نگاہ میں تیس یونٹ ہے ، ایک اور ہے اس کی بیس ہے، ایک اور ہے اس کی دس ہے۔تو ساری اشیاء کی مجموعی قیمت اس کی نگاہ میں ان اشیاء کی اوسط قیمت ہو گی۔جس طرح اگر آپ بازار میں جائیں اور آپ میں چیزیں خریدیں تو اگر ایک کی قیمت مثلاً سو ہو اور ایک کی پچاس ہو اور ایک کی تیس ہو اور مجموعی طور پر آپ نے ہیں چیزوں پر چار سو روپیہ خرچ کیا ہو تو وہ چیزیں جو ہیں ان کی مجموعی قیمت چار سو روپیہ ہے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو جنت میں تمہیں ملے گا اس کے لئے ہمارا یہ قانون ہوگا کہ تمہارے بہترین عمل کا جو بدلہ تمہیں ملنا چاہیے تمہارے کمتر اعمال کا بھی ہم اتنا ہی بدلہ دیں گے۔اس اصول کے مطابق ہماری مثال میں جو چیزیں خریدی گئی ہیں ان کی قیمت چار سو نہیں رہتی بلکہ دو ہزار بن جاتی ہے۔دنیا میں یہ قانون نہیں چلتا اس دنیا میں دنیا کا قانون چلتا ہے مگر اس