خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 578
خطبات ناصر جلد اول ۵۷۸ خطبہ جمعہ ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء کے بعد دینے کا وعدہ کیا ہے ثَمَنِ قلیل کی حیثیت رکھتی ہیں۔تم نے اپنے رب کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اس سے یہ وعدہ کیا تھا کہ تم دین کو دنیا پر مقدم رکھو گے اس لئے جب تم سے تمہارے نفسوں کی قربانی مانگی جائے ، جب تم سے تمہارے بیوی بچوں کی قربانی مانگی جائے ، جب تم سے تمہارے رشتہ داروں اور تمہارے دوستوں کی قربانی مانگی جائے ، جب تم سے تمہارے دنیوی سامان اور مال و اسباب کی قربانی مانگی جائے تو تمہیں چاہیے کہ تم اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے کہ خدا کی جزا اور اس کے ثواب کے مقابلہ میں یہ سب چیزیں ثَمَن قَلیل کی حیثیت رکھتی ہیں۔تم اپنے نفسوں کو بھی تم اپنے بیوی اور بچوں کو بھی تم اپنے عزیز واقارب کو بھی تم دنیا کے ہر قسم کے متاع کو بھی قربان کر کے خدا کی رضا کے حصول کے لئے کوشش کیا کرو اور عہد بیعت کو اپنے ہاتھ سے دے کر ثَمَنِ قليل لینے کی کوشش نہ کیا کرو۔اس سارے سلسلۂ اشیاء کو جو اللہ تعالیٰ نے ثَمَنِ قلیل قرار دیا ہے اس کی دو دلیلیں بھی ساتھ ہی بیان کر دیں تا کہ ہم اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔پہلے تو یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس چیز کا بھی تم سے اس دنیا میں مطالبہ کیا جاتا ہے وہ فانی ہے اور جس چیز کا بھی اس کے بدلہ میں تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ باقی ہے ہمیشہ رہنے والی ہے تو عقل اس نتیجہ پر پہنچتی ہے کہ فانی کے مقابلہ میں جو باقی رہنے والی چیز ہے اور جس پر فنا نہیں وہ بہتر اور اچھی ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر وہ چیز جس کی قربانی تم سے چاہی جاتی ہے، فنا پذیر ہے اور ہر وہ چیز جو اس قربانی کے بعد تمہیں ملنے والی ہے وہ باقی رہنے والی ہے۔تو فانی چیز کے مقابلہ میں ایک ابدی حیات والی چیز تمہیں دی جاتی ہے۔اگر تم ابدی زندگی کو چھوڑ کر چند گھنٹوں، چند دنوں یا چند سالوں کی زندگی اور اس کی خوشیوں کو ترجیح دو گے تو تم دنیا میں بیوقوف سمجھے جاؤ گے۔پس جو باقی رہنے والی اشیاء ہیں جن کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے تم ان کی تلاش کرو اور ان کے حصول کی کوشش کرو۔دوسری دلیل اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ دی کہ جو تمہارے دنیا کے اموال اور اسباب ہیں ان کے ساتھ تمہارے دلوں میں ایک جیسی محبت نہیں ہوتی اور نہ ایک جیسا لگاؤ ہوتا ہے نہ تم ان میں