خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 580
خطبات ناصر جلد اول ۵۸۰ خطبہ جمعہ ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ قانون بنایا ہے کہ وہاں تمہارے بہترین عمل کی بہترین جزاہ تمہیں ملے گی اور بہترین عمل کی بہترین جزاء کے مطابق تمہارے باقی اعمال کی جزاء بھی تمہیں دی جائے گی۔اس طرح جو کچھ تمہیں وہاں ملے گا اس کے مقابلہ میں دنیا کے تمام اموال اور متاع ، تمہاری اپنی جانیں اور تمہارے اپنوں کی جانیں کوئی قیمت نہیں رکھتیں پس یہ ثَمَن قَلِیل ہے۔اللہ تعالیٰ یہاں ہمیں یہ حکم دیتا ہے کہ اس ثَمَنِ قَلیل کو خریدنے کے لئے تم ایسی چیزوں کو قربان نہ کرو جو ابدی مسرتوں اور ابدی سرور والی چیزیں ہیں اور جو بہترین جزا کی شکل میں اور بہترین بدلے کی صورت میں تمہارے سامنے آئیں گی۔لَا تَشْتَرُوا بِعَهْدِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلًا - جو عہد تم نے اپنے خدا سے باندھا ہے کہ تم دین کو دنیا پر مقدم رکھو گے اس پر مضبوطی سے قائم رہو اور اپنی کسی غفلت یا کوتاہی کے نتیجہ میں دنیا کو دین پر مقدم نہ کرنے لگ جاؤ کہ دنیا دین کے مقابلہ میں اور دنیا کی یہ اشیاء اس ثواب کے مقابلہ میں جو نیک اعمال کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس دنیا میں بھی اور اس جہان میں بھی ملتا ہے۔ثَمَن قَلیل کی حیثیت رکھتی ہیں کیونکہ خدا کی جزاء جو ہے وہ ابدی ہے اور اس کی قیمت جو ہے وہ اَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ “ کے اصول پر طے کی گئی ہے۔66 اللہ تعالیٰ ہم سب کو بہترین جزا کا حقدار قرار دے اور اسی کے مطابق ہم سے معاملہ کرے۔آمین روزنامه الفضل ربوه ۹ / مارچ ۱۹۶۷ ء صفحه ۲، ۳)