خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 545
خطبات ناصر جلد اوّل ۵۴۵ خطبه جمعه ۳۰ دسمبر ۱۹۶۶ء انہیں محفوظ کرلوں گا اور بچالوں گا اور انہیں اپنی حفاظت میں لے لوں گا کیونکہ میں خدائے غفور ہوں نیز میری رضا کے حصول کے لئے اگر وہ جدو جہد کریں گے۔میرے بتائے ہوئے راستوں پر اگر وہ اخلاص اور نیک نیتی کے ساتھ چلیں گے۔اگر ان کے دلوں میں اور ان کی روحوں میں مجھے سے ملنے اور میرا قرب حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہوگی اور اگر اسی کے لئے وہ اعمالِ صالحہ بجا لائیں گے۔اس کے لئے وہ قربانیاں دیں گے۔اس کے لئے وہ اخلاص کا نمونہ میرے اور دنیا کے سامنے پیش کریں گے تو انہیں تم یہ بھی بتا دو کہ میں خدائے رحیم ہوں۔میں بار بار رحم کرنے والا خدا ہوں اور نیک اعمال کی بہتر اور احسن جزا دینے والا خدا ہوں۔لیکن اس کے ساتھ میرے بندوں کو تم یہ بھی بتا دو۔اَنَّ عَذَابِى هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ۔اگر کوئی عذاب، عذاب کہلانے کا مستحق ہے۔اگر کوئی عذاب اس بات کا مستحق ہے کہ کہا جائے کہ یہ بڑا دکھ دینے والا ، بڑا تکلیف دینے والا ، زندگی سے بیزار کر دینے والا ، موت کی خواہش دلوں میں پیدا کر دینے والا یہ عذاب ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کے قہر کا ہی عذاب ہے۔یہ ایسا عذاب ہے کہ جن پر وارد ہوتا ہے وہ نہ زندوں میں شمار کئے جا سکتے ہیں کیونکہ حقیقی زندگی کی کوئی رمق ان کے اندر باقی نہیں چھوڑتا اور نہ وہ مردوں کے اندر شمار کئے جاسکتے ہیں۔کیونکہ اس عذاب کے چکھنے کے لئے خدا کی طرف سے انہیں زندہ رکھا جاتا ہے ورنہ ان کے دل تو یہی چاہتے ہیں کہ اس عذاب سے نجات اور چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ان پر موت وارد ہو جائے مگر خدا کہتا ہے کہ نہیں۔مرد نہیں بلکہ میرے عذاب کو چکھو۔تو فر ما یا کہ میرے بندوں کو یہ بھی بتا دو اور کھول کر بتا دو کہ میرا عذاب بھی بڑا سخت عذاب بڑا دکھ دینے والا عذاب ہے۔اللہ تعالیٰ نے رمضان کے اس مہینہ میں اپنی مغفرت اور اپنی رحمت کے دروازے کھولے ہیں جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث میں بڑی وضاحت کے ساتھ یہ مضمون پایا جاتا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں آسمانی رحمتوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور آسمانی غضب اور آسمانی ناراضگیوں اور آسمانی لعنتوں کے دروازے پھیڑ دیئے جاتے ہیں۔اگر خدا کے