خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 546
خطبات ناصر جلد اول ۵۴۶ خطبه جمعه ۳۰ دسمبر ۱۹۶۶ء بندے خدا کی خاطر خدا کے بتائے ہوئے طریق کو اختیار کریں تو وہ ہنسی خوشی بشاشت کے ساتھ چھلانگیں لگاتے ہوئے خدا کی جنت میں داخل ہو سکتے ہیں لیکن اگر وہ ایسا نہ کریں اور خود اپنے ہاتھوں سے جہنم کے ان دروازوں کو کھولیں جن کو خدا تعالیٰ نے بھیڑ دیا تھا تو پھر ان کی بدقسمتی ہے کہ وہ مغفرت اور رحمت کی بجائے خدا کی لعنت کو اختیار کرتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ صرف بھوکا رہنے سے خدا خوش نہیں ہوتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ صرف راتوں کو جاگنے سے صرف قیام لیل یا احیاء لیل سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوتا۔بہت سے وہ بھی ہیں جو بھوکے رہتے ہیں مگر روزے کا ثواب حاصل نہیں کر سکتے۔بہت سے ایسے بھی ہیں جو راتوں کو جاگتے ہیں مگر ان پر ملائکہ کا نزول نہیں ہوتا۔جو نزول ان بندوں پر ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کے لئے اخلاص کے ساتھ ، فروتنی اور عاجزی کے ساتھ راتوں کو جاگ کر اس کے حضور جھک کر اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہیں اور سب کچھ کرنے کے بعد بھی اسے وہ یہی کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم تہی دست ہیں کیونکہ جو کچھ ہم تیرے سامنے پیش کر رہے ہیں اس کے متعلق ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس کے اندر کوئی ایسا کیڑا تو نہیں جو تیری ناراضگی کا موجب ہو۔پس بجائے اس کے ہم یہ کہیں کہ ہم تیرے حضور اپنے اس عمل کا تحفہ پیش کرتے ہیں۔ہم آج تجھے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم جو کچھ پیش کر رہے ہیں اسے نظر انداز کر دے۔ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہمیں اپنی مغفرت اور اپنی رحمت کی چادر میں لپیٹ لے۔ہمیں نہ کسی عمل کا دعوی نہ ہم اس کا انعام تجھ سے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ہم یہ دعویٰ ضرور کرتے ہیں کہ تو نے اپنی ذات کو غفور بھی کہا ہے اور رحیم بھی کہا ہے۔پس تجھے تیرے غفور ہونے کا واسطہ، تجھے تیرے رحیم ہونے کا واسطہ، ہمیں اپنی مغفرت کی چادر کے نیچے چھپالے اور ہمیں اپنی رحمتوں سے نواز کہ اگر تو ہمیں محض اپنے فضل سے اپنی مغفرت کی چادر میں لپیٹ لے، اگر تو اپنی صفت رحیم کو جوش میں لا کر ہم پر اپنی رحمت کا سایہ کر دے تو یہ ناقص عمل ہم نے کیا کرنے ہیں؟ اور ان کا ہمیں کیا فائدہ؟؟ عمل تو ہم نے اس لئے کئے تھے کہ ہم تیری خوشنودگی ، تیری رضا کو حاصل کر لیں۔جب تیری مغفرت کے ذریعہ، جب تیری رحمت کے ذریعہ وہ ہمیں مل گئی تو ہم یہ کیوں کہیں؟ کہ