خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 544
خطبات ناصر جلد اوّل ۵۴۴ خطبه جمعه ۳۰ دسمبر ۱۹۶۶ء شیطان اپنا تسلط جماتا ہے۔فرمایا کہ وہ لوگ جو اپنی مرضی سے صداقت اور ہدایت کی راہوں کو چھوڑ کر گمراہی اور ضلالت کی راہوں کو جو جہنم کی طرف لے جانے والی ہیں اختیار کریں گے تو وہ جہنم میں ہی گریں گے۔وہ جہنم جسے خدا کے غضب اور قہر نے بھڑکا یا ہے۔اسی جہنم سے قرآن کریم کے ذریعہ لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اول انہیں بتایا جاتا ہے کہ اِنَّ بَطْشَ رَبَّكَ لَشَدِيدٌ ( البروج : ۱۳) جب خدا کسی پر اس کی غفلت ، کوتاہی ، یا گناہ یا ظلم کی وجہ سے گرفت کرتا ہے۔تو خدا کی وہ گرفت بڑی ہی سخت ہوا کرتی ہے۔اس لئے انہیں خدا سے ڈرتے ڈرتے اپنی زندگی کے دن گزار نے چاہئیں اور انہیں چاہیے کہ تقویٰ کی سب راہوں کو اختیار کریں تا جہنم کا کوئی دروازہ بھی ان کے لئے کھلا نہ رہے۔جہنم کے سب دروازے ان کے لئے بند ہو جائیں۔اس لئے کہ تقویٰ کی سب راہوں کو انہوں اختیار کیا تھا۔پھر فرمایا کہ جو لوگ تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرتے ہیں۔انہیں جان لینا چاہیے کہ تقویٰ کی یہ را ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے باغوں اور اس کی رحمت کے چشموں تک لے جاتی ہیں۔جہاں وہ بے خوف وخطر سلامتی کی فضا میں سانس لیں گے۔ان کے سینوں میں سے سب کینے نکال باہر پھینکے جائیں گے اور ان کو مقامات رفعت اور مقامات قرب، اخوت کا باعث بنیں گے۔باہمی جھگڑے اور فساد کا باعث نہیں بنیں گے۔ان مقامات رفعت اور ان مقامات قرب میں مزید رفعتوں کے حصول کے لئے ان کی جو بھی جد و جہد ہوگی ( وہ ایک عظیم جدوجہد ہو گی ) انہیں تھکائے گی نہیں بلکہ مزید روحانی سرور کے حصول کا ذریعہ ان کے لئے بنے گی۔دو اس مضمون کے بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نَبِّئُ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ۔میرے بندوں کو کھول کر یہ بات بتا دو کہ میری صفات میں سے دوصفات یہ بھی ہیں کہ میں غفور بھی ہوں اور میں رحیم بھی ہوں اگر وہ میری طرف رجوع کریں گے اگر وہ میری طرف آئیں گے اگر وہ میری طرف جھکیں گے اگر وہ تو بہ کی راہوں کو اختیار کریں گے اگر وہ استغفار کو اپنا شعار بنائیں گے۔اگر وہ مجھ سے مغفرت چاہیں گے تو اپنی تمام کوتاہیوں کے نتیجہ میں اور غفلتوں کے نتیجہ میں اور گناہوں کے نتیجہ میں وہ جس سزا کے مستحق اور سزاوار بنے تھے میں اس سزا سے