خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 531
خطبات ناصر جلد اول ۵۳۱ خطبه جمعه ۲۳ / دسمبر ۱۹۶۶ء کہ ایک مدت کے بعد الہی سلسلوں میں ایک ایسی نسل پیدا ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کے ذکر کو اس کی یاد کو اور اس کی عبادت کو بھول جاتی ہے اور دنیا کے کیڑے بن جاتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان حالات میں اس نسل پر ہمارا یہ قانون لگتا ہے۔کہ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا ( ” کے ایک معنی ہلاکت کے بھی ہیں ) انہیں تدریجی ہلاکت کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔آپ دوست اگر اپنی تاریخ پر نظر ڈالیں تو آپ اس نتیجہ پر پہنچیں گے بلکہ جو شخص بھی سوچے گا وہ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ جماعت احمدیہ کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کا یہی سلوک ہے کہ آنا ناتی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا اَفَهُمُ الْغَلِبُونَ کہ کناروں سے زمین کو اللہ تعالیٰ ہمارے لئے چھوٹا کرتا چلا جاتا ہے اور اس جماعت کے اندر اس نسبت کے ساتھ وسعت پیدا کرتا چلا جاتا ہے اور یہ پختہ دلیل ہے اس بات کی کہ یہ جماعت مغلوب ہونے والی نہیں۔بلکہ غالب ہونے والی اور فاتح ہونے والی اور خدا تعالیٰ کی نصرتوں کو جذب کر کے خدا تعالیٰ کی توحید کو دنیا میں قائم کرنے والی اور بنی نوع انسان کے دلوں کو خدا تعالیٰ اور اس کے رسول ( محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لئے جیتنے والی ہے۔اس تدریجی ترقی کا ایک پیمانہ ہمارا جلسہ سالانہ ہے جب میں افسر جلسہ سالانہ کے طور پر کام کر رہا تھا، تو میں نے پہلے جلسہ سے لے کر اس وقت تک کے تمام جلسوں کی حاضری کا ایک چارٹ یعنی گراف بنایا ہے۔میں نے دیکھا کہ سوائے اس کے کہ کوئی سال خاص طور پر اس جماعت کو عام رفتار کی نسبت اپنی طرف زیادہ متوجہ کرنے والا ہو اور اس سال جلسہ سالانہ میں آنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی ہو مثلاً حضرت مصلح موعود کی جو بلی کا جلسہ تھا یہ جو بلی ہم نے دعاؤں کے ساتھ گریہ وزاری کے ساتھ اور مبارک مقامات پر مبارک اجتماع کے ساتھ منائی تھی اس میں آنے والوں کی تعداد خاص طور پر اس سے پہلے سال کی نسبت سے بھی اور اس کے بعد جو سال آیا اس کی نسبت بھی بہت بڑھ گئی۔چند استثنائی سالوں کو چھوڑ کر میں نے دیکھا کہ گراف کی لکیر تدریجی طور پر اوپر چڑھتی چلی جاتی ہے اور آج تک ہمارے جلسوں کا یہی حال ہے۔غرض جلسہ سالانہ ہماری جماعت کی تدریجی ترقی کا ایک چھوٹا سا پیمانہ ہے اور بھی بہت سے