خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 530 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 530

خطبات ناصر جلد اوّل ۵۳۰ خطبه جمعه ۲۳ / دسمبر ۱۹۶۶ء بعض ٹہنیاں خشک ہو جاتی ہیں اور وہ خشک ٹہنیاں ہی دراصل ان کی زندگی کا ایک بین ثبوت ہوتی ہیں۔پس اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا تعالیٰ کے لگائے ہوئے درختوں کی بعض ٹہنیاں اپنی بدقسمتی کے نتیجہ میں خشک ہو جاتی ہیں لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ خدا تعالیٰ کا لگایا ہوا درخت شیطانی طاقتوں اور طاغوتی تدبیروں کے نتیجہ میں مرا نہیں کرتا اس زندگی کے اظہار کے لئے اللہ تعالیٰ نے بہت سے معیار اور پیمانے بتائے ہیں۔ایک پیمانہ اللہ تعالیٰ نے اپنے لگائے ہوئے درخت کی زندگی (جو اللہ تعالیٰ کے منشا کے مطابق ایک معینہ وقت تک ہوتی ہے ) اور اس کی بقا کا یہ بتایا ہے کہ انا ناتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا أَفَهُمُ الْغَلِبُونَ۔(الانبياء : ۴۵) یعنی جو پودے اللہ تعالیٰ کے لگائے ہوئے ہوتے ہیں ان میں تدریجی ارتقا اور تدریجی کامیابی اور تدریجی از یاد مفاد اور تدریجی حسن اور خوبصورتی میں زیادتی پائی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمیشہ ایسے درختوں کے متعلق میرا یہ قانون ہے کہ میں دنیا ( مخالف دنیا ) کو بتدریج کم کرتا چلا جاتا ہوں اور اپنے قائم کردہ سلسلہ کو آہستہ آہستہ اور بتدریج بڑھاتا چلا جاتا ہوں۔خدا تعالیٰ کی یہ فعلی شہادت اس بات کی بین دلیل ہوتی ہے۔کہ یہی سلسلہ اور یہی جماعت غالب آنے والی ہے۔عقل بھی اسی نتیجہ پر پہنچتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ بھی یہی ہے اس لئے فرما یا ان حالات میں اگر وہ اپنی عقل سے کام لیں تو کیا وہ اس نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں۔اَفَهُمُ الْغَلِبُونَ کہ وہ غالب آجائیں گے۔عقل اس نتیجہ پر نہیں پہنچتی اس کے برعکس اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ہمیں یہ بتاتا ہے کہ جس وقت خدا تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلے اپنی عمر گزار چکتے ہیں۔تو ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا سلوک اس کے بالکل برعکس ہو جاتا ہے۔یعنی ان پر تدریجی ترقی ، تدریجی بڑھاؤ اور تدریجی نشوونما کے مقابلہ میں تدریجی تنزل اور تدریجی ہلاکت کا قانون لاگو ہو جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ فرماتا ہے۔فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفَ أَضَاعُوا الصَّلوةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا - (مریم: ۶۰)