خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 463
خطبات ناصر جلد اول ۴۶۳ خطبه جمعه ۴ / نومبر ۱۹۶۶ء لحاظ سے نہیں بلکہ صرف تعداد کے لحاظ سے ) مجھے پہنچ جانی چاہیے۔مثلاً لا ہور لکھے کہ ہمارے ہاں اطفال ڈیڑھ ہزار ہیں۔ناصرات ڈیڑھ ہزار ہیں اور کم عمر کے بچے تین ہزار ہیں۔جو صورت بھی ہو مجھے صرف تعداد چاہیے اور دوسرے یہ لکھا جائے کہ ان میں سے وقف جدید کا اس رنگ میں کس کس نے وعدہ کیا ہے۔وعدوں کے متعلق اعلان کرتے ہوئے میں نے بتایا تھا کہ ہمارے ہزاروں بچے ایسے ہیں کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے ایسے خاندانوں میں پیدا کیا ہے کہ جنہیں اتنا رزق دیا ہے کہ ان میں سے ہر ایک بچہ ایک اٹھنی ماہوار یا اس سے بھی زائد دے کر وقف جدید کا مستقل مجاہد بن سکتا ہے۔لیکن بعض ایسے مخلص اور قربانی کا جذبہ رکھنے والے احمدی خاندان بھی ہیں جو مالی استطاعت نہیں رکھتے۔مثلاً اگر ان میں سے کسی خاندان کے چھ بچے ہوں تو اٹھنی ماہوار کے حساب سے تین روپے ماہوار یا چھتیں روپے سالانہ انہیں ادا کرنے چاہئیں۔حالانکہ غربت کی وجہ سے اس خاندان کے بڑوں کے چندے بھی کم و بیش اتنے ہی ہوتے ہیں۔پس اگر ایسے خاندان کا ہر بچہ اٹھنی ماہوار ادا نہ کر سکے تو سارے خاندان کے بچے مل کر ایک یونٹ بنالیں اور سب مل کر اٹھنی ماہوار دے دیا کریں۔رورو بہر حال اس صورت میں وقف جدید کے چندہ کا جو وعدہ کیا گیا ہو۔یا الگ الگ ہر بچہ نے جو وعدہ کیا ہو اس کی اطلاع پندرہ دن کے اندر آجانی چاہیے۔واللہ اعلم بچوں کی صحیح تعداد کتنی ہے؟ رپورٹیں آئیں گی تو پتہ چلے گا لیکن یہ مجھے یقین ہے کہ ہمارے وہ بچے جن کی عمر پندرہ سال سے کم ہے ان کی تعداد کم از کم پچاس ہزار ہوگی۔اگر پچاس ہزار بچے الگ الگ پوری شرح سے چندہ ادا کریں تو ان کا چندہ چھ روپے سالانہ کے حساب سے تین لاکھ روپیہ بن جاتا ہے۔جو وقف جدید کے سال رواں کے وعدوں سے ڈیڑھ گنا ہے۔(لیکن بعض دوستوں نے تو اپنے پیدا ہونے والے بچے کی طرف سے بھی چندہ بھجوا دیا ہے) لیکن چونکہ وقف جدید کے کام کو پوری طرح چلانے کے لئے یہ نا کافی ہے۔اس لئے امید ہے کہ (جیسا کہ دوست پہلے بھی کیا کرتے ہیں )۔اس میں بچوں کے علاوہ دوسرے