خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 464 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 464

خطبات ناصر جلد اول ۴۶۴ خطبہ جمعہ ۴/نومبر ۱۹۶۶ء دوست بھی شامل ہوں گے اور پھر چھ روپے سے زیادہ چندہ دینے والے بھی ہوں گے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ وقف جدید کا چندہ چھ روپے نہیں بلکہ سات سو یا ہزار دیا کرتے تھے (اس وقت مجھے اچھی طرح یاد نہیں) اسی طرح دوسرے بھی بہت سے لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالی زیادہ دینے کی توفیق عطا کرتا ہے۔وہ چھ روپے تک نہیں رکھتے۔یہ زائد دینے والے جو ہیں۔ان کی رقمیں تین لاکھ کے علاوہ ہوں گی۔اس طرح وقف جدید کے لئے تین لاکھ سے زیادہ رقم ہمیں مل جائے گی۔جب ہمیں تین لاکھ سے زیادہ رقمیں وصول ہو جائیں گی تب ہم صحیح طور پر کام کر سکیں گے ورنہ ہمارے سالِ رواں کا کام بھی ٹھیک طرح نہ ہو سکے گا۔سو اللہ تعالیٰ آپ میں سے ہر ماں اور آپ میں سے ہر باپ کو یہ کہہ رہا ہے کہ صرف اپنی فکر ہی نہ کرنا۔قُوا أَنْفُسَكُمْ ہی نہیں بلکہ قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ تم پر یہ بھی فرض ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت اس رنگ میں کرو کہ اخروی زندگی میں وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی آگ میں نہ پھینکے جائیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کھول کر آپ کے سامنے بیان کر رہا ہے کہ حقیقی معنی میں گھاٹا پانے والے وہ لوگ ہیں کہ جو قیامت کے روز خود بھی گھاٹا پائیں گے اور اپنے اہل کو بھی گھاٹا پانے والا بنا دیا ہو گا ان کی تربیت صحیح رنگ میں نہ کی ہوگی اور بہت سی آیات بھی ہیں جو اس طرف متوجہ کر رہی ہیں۔تو قرآنی تعلیم کے مطابق ہم میں سے ہر ایک کو اپنی نسل کی تربیت اس رنگ میں کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو نارِ جہنم سے بچائے اور ان پر اس رنگ میں اپنا فضل کرے کہ اس کی نگاہ میں وہ خاسرین کے گروہ میں شامل نہ ہوں۔پس اپنے نفس کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے بڑی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ عائد کی ہے کہ اپنے خاندان کو سمجھا ئیں۔اس کو اسلام کا شیدائی بنا ئیں اور اس کے ہر فرد کے دل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا کریں حتی کہ ان کے دل اس جذبہ سے معمور ہو جائیں