خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 462 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 462

خطبات ناصر جلد اوّل ۴۶۲ خطبہ جمعہ ۴/نومبر ۱۹۶۶ء روح قائم ہے۔لیکن ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ نئی نسلوں کو بھی قربانیوں کی ان راہوں پر چلنے کی عادت ڈالیں۔اسی لئے میں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وقف جدید کا مالی بوجھ اگر ہمارے بچے اور بچیاں جن کی عمر پندرہ سال سے کم ہے اُٹھالیں تو جماعت کے ارفع مقام کا مظاہرہ بھی ہوگا کہ جماعت کے بچے بھی اس قسم کی قربانیاں دیتے ہیں کہ اس پوری تحریک ( وقف جدید ) کا مالی بوجھ انہوں نے اٹھا لیا ہے اور خود ان کے لئے بھی بڑے ثواب کا موجب ہو گا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے جو کام انہوں نے آئندہ کرنے ہیں اس کے لئے تربیت کا موقع بھی مل جائے گا۔اس کی طرف جماعت نے اتنی توجہ نہیں دی جتنی دینی چاہیے تھی۔میں سمجھتا ہوں کہ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہمارے بچے جن کی عمر ایک دن سے پندرہ سال کے درمیان ہے وہ تین مختلف تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں۔سات سال سے پندرہ سال کی عمر کے بچوں کا تعلق اطفال الاحمدیہ خدام الاحمدیہ سے ہے اور سات سے پندرہ سال کی بچیوں کا تعلق ناصرات الاحمدیہ لجنہ اماءاللہ سے ہے اور سات سال سے کم عمر کے بچوں اور بچیوں کا تعلق نظام جماعت سے ہے۔تو بچوں کی یہ ننھی منی فوج تین حصوں میں بٹ گئی تھی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعض جماعتوں میں تو ہر تنظیم نے سمجھا کہ شاید دوسرا کام کر رہا ہو اور بعض جگہ ایک دوسرے کے کام میں دخل دینا شروع کر دیا۔یعنی خدام الاحمدیہ اطفال الاحمدیہ والے جو تھے انہوں نے کم عمر والے بچوں کی فہرستیں بنانا شروع کر دیں۔جماعتی نظام والے جو تھے انہوں نے سات سال سے کم عمر والے بچوں کی ہی فہرستیں نہیں بنائیں بلکہ اطفال کی فہرستیں بھی بنانے لگ گئے۔اس طرح انہوں نے ایک دوسرے کے کام میں دخل دینا شروع کر دیا۔بہر حال جو سستی ہو چکی ہے اسے اللہ تعالیٰ معاف فرمائے لیکن آئندہ کے لئے میں چاہتا ہوں کہ اس خطبہ کے شائع ہونے کے بعد پندرہ دن کے اندر اندر ہر جماعت مجھے بچوں کی ان تین مختلف قسموں کے لحاظ سے یعنی اطفال الاحمدیہ سے تعلق رکھنے والے بچے، ناصرات الاحمدیہ سے تعلق رکھنے والی بچیاں اور سات سے کم عمر کے بچوں اور بچیوں کی فہرست علیحدہ علیحدہ ( نام کے