خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 433
خطبات ناصر جلد اول ۴۳۳ خطبه جمعه ۱۴ /اکتوبر ۱۹۶۶ء کہ اس کی کبھی یہ منشا نہ ہو کہ وہ اس جماعت کو ہلاک اور تباہ کر دے کیونکہ اس سلسلہ نے جسے خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے ابھی وہ کام پورے نہیں کئے جو اس کے سپرد کئے گئے تھے ابھی غیر مذاہب کے ساتھ عظیم جنگ جاری ہے۔عیسائیوں، یہودیوں ، ہندوؤں ، لا مذہب اور بد مذہب اقوام کے خلاف روحانی جنگ ہو رہی ہے اور اس جنگ میں ابھی ہمیں آخری فتح حاصل نہیں ہوئی۔ہماری جماعت کے پھیلاؤ کے ساتھ اور ہماری بڑھتی ہوئی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ پہلے سے زیادہ اہل اور اس کی رضا میں محو ہونے والے اور اس کے نور سے حصہ لینے والے ایسے جرنیل پیدا کرتا چلا جائے گا جو اسلام کی اس فوج کو بہترین قیادت عطا کریں گے۔ان کو آخری کامیابی کی طرف درجہ بدرجہ نہایت خاموشی کے ساتھ ( کہ جہاں تک ان کے نفوس کا تعلق ہے ایسے نفوس بے نفس ہوتے ہیں ) اور عظیم شان کے ساتھ ( جو جہاں تک نتائج کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے ایسے بندوں کو عطا کرتا ہے۔) اس فوج کو اسلام کی آخری فتح کی طرف لے جانے والے ہوں گے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔پس ہمارے دل اپنے ایک دوست کی جدائی کی وجہ سے بے شک دکھی ہیں کیونکہ انسان کی فطرت ہی ایسی واقع ہوئی ہے کہ وہ جانے والے کے فراق کے نتیجہ میں دکھ محسوس کرتا ہے لیکن جہاں تک سلسلہ احمدیہ کا تعلق ہے ایک شمس غروب ہوا تو اللہ تعالیٰ ہزاروں شمس اس پر چڑھائے گا۔اور اللہ تعالیٰ کا فضل اس جماعت کو اس وقت تک حاصل ہوتا رہے گا جب تک یہ جماعت اور اس کے افراد اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی برکتوں اور اس کی رحمتوں کے حصول کے اہل بنائے رکھیں گے۔وہ قربانیاں دیتے رہیں گے اور ایثار کا نمونہ دکھاتے رہیں گے جو صحابہ نے خدا تعالیٰ اور اس کے محبوب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دکھایا تھا۔غرض ہم دکھی بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھنے والے بھی ہیں کہ وہ سلسلہ کے کاموں میں کوئی رخنہ نہیں پڑنے دے گا جس کے نتیجہ میں یہ جماعت کمزور ہو۔جیسا کہ سلسلہ کے پہلے جانے والے بزرگوں کے بعد اس نے شمس صاحب جیسے آدمی کھڑے کر دیئے۔اسی طرح وہ شمس صاحب کے جانے کے بعد شمس صاحب جیسے آدمی کھڑے کر دے گا۔