خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 432 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 432

خطبات ناصر جلد اوّل ۴۳۲ خطبه جمعه ۱۴ /اکتوبر ۱۹۶۶ء میر محمد اسحاق صاحب کو تو کوئی جانتا بھی نہیں تھا اور حافظ روشن علی صاحب گو جماعتوں کے جلسوں پر آنے جانے لگ گئے تھے مگر لوگ زیادہ تر یہی سمجھتے تھے کہ ایک نوجوان ہے جسے دین کا شوق ہے اور وہ تقریروں میں مشق پیدا کرنے کے لئے آجاتا ہے مگر حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد چند دنوں میں ہی انہیں خدا تعالیٰ نے وہ عزت اور رعب بخشا کہ جماعت نے یہ سمجھا کہ ان کے بغیر اب کوئی جلسہ کامیاب ہی نہیں ہوسکتا۔پھر کچھ عرصہ کے بعد جب ادھر میر محمد اسحاق صاحب کو نظامی امور میں زیادہ مصروف رہنا پڑا اور ان کی صحت بھی خراب ہو گئی۔اور ادھر حافظ روشن علی صاحب وفات پاگئے تو کیا اس وقت بھی کوئی رخنہ پڑا؟ اس وقت اللہ تعالیٰ نے فوراً مولوی ابوالعطاء صاحب اور مولوی جلال الدین صاحب شمس کو کھڑا کر دیا اور جماعت نے محسوس کیا کہ یہ پہلوں کے علمی لحاظ سے قائم مقام ہیں۔پس الہی سلسلے اپنے بزرگوں کے وصال کے بعد ان سے جدا ہو کر صدمہ اور غم تو محسوس کرتے ہیں لیکن یہ درست نہیں ( اگر کوئی ناسمجھ خیال کرے ) کہ کسی جانے والے کے بعد اس کی وجہ سے الہی سلسلے کے کام میں کوئی رخنہ پیدا ہو سکتا ہے یا رخنہ پیدا ہو گیا ہے کیونکہ جب تک اللہ تعالیٰ اپنے قائم کردہ سلسلہ کو بقا اور زندگی عطا کرنا چاہتا ہے۔اس وقت تک ایک شخص کے اعمال پر فنا وارد کرنے کے بعد وہ دوسرے افراد کھڑے کر دیتا ہے جو اسی قسم کے اعمالِ صالحہ بجالاتے ہیں اور اپنے لئے اور جماعت کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والے ہوتے ہیں۔ہمارے بزرگ ہمارے بھائی ہمارے دوست مکرم مولوی جلال الدین صاحب شمس ہم سے جدا ہوئے۔خدا کی رضا کی خاطر انہوں نے اپنی زندگی کو گزارا اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے اپنی وفات کے بعد خدا تعالیٰ کی ابدی رضا کو حاصل کیا۔ان کی وفات کے بعد خدا تعالیٰ خود اس سلسلہ میں ایسے آدمی کھڑے کرے گا جو اسی خلوص کے ساتھ اور جو اسی جذ بہ فدائیت کے ساتھ اور جو اسی نور علم کے ساتھ جو اسی روشنی فراست کے ساتھ سلسلہ کی خدمت کرنے والے ہوں گے جس کے ساتھ مکرم مولوی جلال الدین صاحب شمس نے سلسلہ کی خدمت کی تھی۔کیونکہ خدا تعالیٰ کا سلوک ہمارے ساتھ ایسا ہی چلا آیا ہے۔اللہ تعالیٰ کی ابھی یہ منشا نہیں اور خدا کرے