خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 434
خطبات ناصر جلد اول ۴۳۴ خطبه جمعه ۱۴ /اکتوبر ۱۹۶۶ء مکرم شمس صاحب نے جو خدمات سلسلہ کی کی ہیں ان کی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل میں بڑی قدر تھی۔چنانچہ جب شمس صاحب انگلستان سے واپس تشریف لائے تو حضور نے اس پیشگوئی کہ سورج مغرب سے طلوع کرے گا کا ایک بطن آپ کو بھی قرار دیا۔آپ نے فرمایا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی مغرب سے طلوع شمس کا ایک بطن اس وقت شمس صاحب کے ذریعہ پورا ہوا جبکہ وہ مغرب سے آئے۔کیونکہ صحیح معنی اس پیشگوئی کے یہ تھے کہ مغربی اقوام جو ہیں وہ اسلام کی حقانیت اور ا صداقت کا عرفان حاصل کریں گی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آنا اپنے لئے عزت کا باعث سمجھیں گی۔پس اس کوشش میں جو بھی حصہ لیتا ہے وہ اسی شمس کا ایک حصہ ہے۔ایک ظل ہے ایک پر تو ہے۔جس کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ مغرب سے چڑھے گا۔غرض جب آپ انگلستان سے واپس آئے تو چونکہ وہی کام آپ نے وہاں کیا تھا۔جو اس پیشگوئی میں درج ہے۔اس لئے حضور نے فرمایا۔کہ اس کا ایک بطن شمس صاحب کا مغرب میں قیام اور وہاں سے واپس آنا بھی ہے۔پھر شمس صاحب کے سپر د جب تصنیف و اشاعت کا کام کیا گیا تو حضرت مصلح موعودؓ نے اس پرخوشنودی کا اظہار فرمایا۔اور فرمایا پھر تصنیف واشاعت کا محکمہ ہے۔یہ کام نیا شروع ہوا ہے۔لیکن ایک حد تک اس کی اٹھان بہت مبارک ہے۔شمس صاحب نے اس کام میں جان ڈال دی ہے۔جو شخص خدا تعالیٰ کے لئے زندہ ہو۔وہ ہر اس کام میں زندگی پیدا کر دیتا ہے۔جسے وہ خدا تعالیٰ کے نام پر اور اس پر بھروسہ کرتے ہوئے شروع کرتا ہے۔پھر شمس صاحب کو حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ” خالد “ کا خطاب بھی دیا۔حضور نے جلسہ سالانہ ۱۹۵۶ ء کی تقریر میں فرمایا:۔’ایک بات میں یہ کہنی چاہتا تھا کہ حضرت خلیفہ اول کی خلافت کے خلاف جب