خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 422 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 422

خطبات ناصر جلد اول ۴۲۲ خطبہ جمعہ ۷ /اکتوبر ۱۹۶۶ء خوب کما رہا ہوتا ہے اور اپنی آمد کے مطابق وہ اپنا وعدہ لکھواتا ہے لیکن بعد میں وہ حوادث زمانہ کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔اس کی آمد کم ہو جاتی ہے اور وہ مجبور ہو جاتا ہے کہ اپنے وعدہ کوملتوی کر دے کیونکہ مومن اپنے وعدہ کو منسوخ نہیں کرتا ہاں جب اسے حالات مجبور کر دیتے ہیں تو وہ اپنے وعدہ کو ملتوی کر دیتا ہے۔اس نیت کے ساتھ کہ جب اللہ تعالیٰ اسے توفیق دے گا۔تو وہ اپنے وعدہ کو ضرور پورا کر دے گا۔ایسے ہی لوگوں کو بعد میں اللہ تعالیٰ توفیق بھی عطا کر دیتا ہے کہ وہ اپنے وعدے پورے کر دیں۔لیکن یہاں حال یہ ہے کہ ایک لاکھ ستر ہزار روپے (۱,۷۷٫۰۰۰) کا بجٹ تھا اور وعدے ابھی تک ایک لاکھ چالیس ہزار روپے کے وصول ہوئے ہیں اور اس کے مقابلہ میں اس وقت تک صرف پچانوے ہزار روپے کی وصولی ہوئی ہے۔حالانکہ سال رواں میں وقف جدید کے لئے ہمیں دو لاکھ یا اس سے زیادہ روپے کی ضرورت ہے۔میں نے اندازہ لگایا ہے کہ ایک لاکھ ستر ہزار روپے میں ہمارا کام نہیں چلے گا۔ہمیں کم از کم دولاکھ سوا دولاکھ روپے کی ضرورت ہوگی اور اس قدر رقم ہمیں ملنی چاہیے تا وہ عظیم اور نہایت ہی ضروری اور مفید کام جو وقف جدید کے سپرد کیا گیا ہے۔کما حقہ، پورا کیا جا سکے۔پس بجٹ جو مجلس شوری نے پاس کیا تھا اگر چہ وہ ایک لاکھ ستر ہزار روپے کا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں کم از کم دو لاکھ روپیہ وصول ہونا چاہیے لیکن اس وقت جو وعدے وصول ہوئے ہیں وہ ایک لاکھ چالیس ہزار روپیہ کے ہیں۔اس کے لئے ایک تو یہ ہونا چاہیے کہ جو دوست اس تحریک میں حصہ لے رہے ہیں وہ اپنے وعدوں پر دوبارہ غور کریں اور جماعت کی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے ان میں اضافہ کریں اور پھر دعا بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں ان وعدوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔دوسرے وہ دوست جنہوں نے ابھی تک وقف جدید کی مالی تحریک میں حصہ نہیں لیا انہیں اس تحریک کی اہمیت ذہن نشین کرنی چاہیے اور انہیں اس میں شامل ہونا چاہیے۔تیسرے میں آج احمدی بچوں (لڑکوں اور لڑکیوں) سے اپیل کرتا ہوں کہ اے خدا اور