خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 423 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 423

خطبات ناصر جلد اول ۴۲۳ خطبہ جمعہ ۷ اکتوبر ۱۹۶۶ء اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بچو! اُٹھو اور آگے بڑھو اور تمہارے بڑوں کی غفلت کے نتیجہ میں وقف جدید کے کام میں جو رخنہ پڑ گیا ہے اسے پر کر دو اور اس کمزوری کو دور کر دو جو اس تحریک کے کام میں واقع ہوگئی ہے۔کل سے میں اس مسئلہ پر سوچ رہا تھا۔میرا دل چاہا کہ جس طرح ہماری بہنیں بعض مساجد کی تعمیر کے لئے چندہ جمع کرتی ہیں اور سارا ثواب مردوں سے چھین کر اپنی جھولیوں میں بھر لیتی ہیں۔وہ اپنے باپوں اپنے بھائیوں اپنے خاندوں اپنے دوسرے رشتہ داروں یا دوسرے احمدی بھائیوں کو اس بات سے محروم کر دیتی ہیں کہ اس مسجد کی تعمیر میں مالی قربانی کر کے ثواب حاصل کر سکیں۔اسی طرح اگر خدا تعالیٰ احمدی بچوں کو توفیق دے تو جماعت احمدیہ کے بچے وقف جدید کا سارا بوجھ اٹھا لیں لیکن چونکہ سال کا بڑا حصہ گزر چکا ہے اور مجھے ابھی اطفال الاحمدیہ کے صحیح اعداد وشمار بھی معلوم نہیں اس لئے میں نے سوچا کہ آج میں اطفال الاحمدیہ سے صرف یہ اپیل کروں کہ اس تحریک میں جتنے روپے کی ضرورت تھی اس میں تمہارے بڑوں کی غفلت کے نتیجہ میں جو کمی رہ گئی ہے اس کا بار تم اٹھا لو اور پچاس ہزار روپیہ اس تحریک کے لئے جمع کرو۔یہ صحیح ہے کہ بہت سے خاندان ایسے بھی ہیں۔جن کے بچوں کو مہینہ میں ایک دو آنے سے زیادہ رقم نہیں ملتی۔لیکن یہ بھی صحیح ہے۔کہ ہماری جماعت میں ہزاروں خاندان ایسے بھی ہیں۔جن کے بچے کم و بیش آٹھ آنے ماہوار یا شائد اس سے بھی زیادہ رقم ضائع کر دیتے ہیں۔چھوٹا بچہ شوق سے پیسے لے لیتا ہے لیکن اسے معلوم نہیں ہوتا کہ ان کی قیمت کیا ہے۔وہ پیسے مانگتا ہے اور اس کی ماں یا اس کا باپ اس کے ہاتھ میں پیسہ آنہ، دونی یا چونی دے دیتا ہے اور پھر وہ بچہ ا سے کہیں پھینک کر ضائع کر دیتا ہے۔اگر مائیں ایسے چھوٹے بچوں کو وقتی خوشی کے سامان پہنچانے کے لئے پیسہ، آنہ، دونی، یا چونی دے دیں اور پھر انہیں ثواب پہنچانے کی خاطر تھوڑی دیر کے بعد ان سے وہی پیسہ ، آنہ دونی یا چونی وصول کر کے وقف جدید میں دیں اور اس طرح ان کے لئے ابدی خوشیوں کے حصول کے سامان پیدا کر دیں تو وہ بڑی ہی اچھی مائیں ہوں گی۔اپنی اولاد کے حق میں۔لیکن یہ تو چھوٹے بچے ہیں۔جو اپنی عمر کے لحاظ سے ابھی اطفال الاحمدیہ میں شامل نہیں