خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 348 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 348

خطبات ناصر جلد اول ۳۴۸ خطبہ جمعہ ۲۹؍جولائی ۱۹۶۶ء (۷) ساتویں صفتِ حسنہ قرآن کریم کی اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے لَا إِلَهَ إِلَّا الله کہ جس خدا نے اس قرآن کو نازل کیا ہے وہ اکیلا ہی پرستش کا سزاوار اور حقدار ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔پس اس کتاب کی بنیادی صفت یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان کی کہ یہ کتاب اور اس کی تعلیم اور اس کی شریعت اور اس کی ہدا یتیں اور وہ نور جو اس سے نکلتا ہے اور اس کے ماننے والوں کے جسموں اور ان کی روحوں میں داخل ہوتا اور نفوذ کرتا ہے۔اس کے نتیجہ میں انسان خالص تو حید پر کھڑا ہوتا ہے۔قرآن نہ ہوتا تو دنیا میں توحید خالص بھی نہ پائی جاتی۔پس اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفاتِ حسنہ کے متعلق کامل تفصیلی علم یہی کتاب دیتی ہے جس کے بغیر تو حید، صحیح معنی اور حقیقی رنگ میں قائم نہیں ہوسکتی۔تو اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے متعلق بھی علوم کے سمند ر اپنے اندر بند کر دیئے ہیں اور تمہارے فائدہ کے لئے ایسا کیا گیا ہے۔پس تم اس خدائے واحد و یگانہ کے قرب کے حصول کے لئے اس کی ذات کی معرفت اور اس کی صفاتِ حسنہ کا عرفان حاصل کرو اور قرآن کریم کی روشنی میں ہی تم ایسا کر سکتے ہو۔پس قرآن کریم کو توجہ سے پڑھو اور توجہ سے سنو اور عزم اور استقلال اور صبر کے ساتھ اس پر عمل کرو اور دعاؤں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے نور سے حصہ حاصل کرو اور نور قرآن کریم کے ذریعہ سے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے تا کہ تم تو حید خالص پر کھڑے ہو جاؤ اور توحید خالص کو پالینے کے بعد دنیا کی ساری کامیابیاں مل جاتی ہیں اور کوئی نا کامی بھی انسان کے حصہ میں نہیں رہتی۔(۸) آٹھویں صفتِ حسنہ یا اندرونی خوبی قرآن کریم کی اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بیان فرمائی ہے وَالَيْهِ البَصِيرُ کہ اس عظیم کتاب کو نازل کرنے والی وہ ذات پاک ہے جس کی طرف ہم نے لوٹ کر جانا ہے اور اس خدا نے اس قرآن کے ذریعہ انسان کو معاد کا کامل اور مکمل علم دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑے زور کے ساتھ اور بڑی وضاحت کے ساتھ اور بڑی تفصیل کے ساتھ اس مضمون کو اپنی کتب میں بیان فرمایا ہے۔کہ معاد کا علم اور جنت و دوزخ کی حقیقت جو قرآن کریم بیان کرتا ہے۔وہ کسی غیر کے وہم میں بھی نہیں آسکتی اور نہ ہی ان کتب سماویہ میں وہ