خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 349 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 349

خطبات ناصر جلد اول ۳۴۹ خطبہ جمعہ ۲۹؍جولائی ۱۹۶۶ء علوم پائے جاتے ہیں جو قرآن کریم سے پہلے نازل ہوئیں پھر محرف و مبدل ہوئیں اور پھر وہ منسوخ ہو گئیں۔یہ قرآن، یہ پاک کتاب ہی ہے جو نورِ مجسم ہے اور حقیقی اور خالص توحید پر کھڑا کرتی ہے اور معاد کا علم پوری طرح ہمیں عطا کرتی ہے اور ہمیں ایک حق الیقین عطا کرتی ہے اس بات پر کہ ہم مرنے کے بعد پھر زندہ کئے جائیں گے اور اس یقین کے بعد انسان اس دنیا اور اس کی لذتوں اور اس کی خواہشات سے بکی منہ موڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔اس کو یہ فکر ہوتی ہے اگر میں اس دنیوی زندگی میں پڑ گیا جو اُخروی زندگی کے مقابلہ میں غیر محدود طور پر کم ہے دیکھو تو عظیم گھاٹا پانے والا ہوں گا۔سو کی نسبت ایک کے ساتھ یہ ہے کہ ایک، سو کا سواں حصہ چونکہ اُخروی زندگی غیر محدود ہے۔اس لئے اس زندگی کی نسبت اس اُخروی زندگی کے ساتھ یہ ہے کہ یہ زندگی اس زندگی کا غیر محد و دواں حصہ ہے یعنی کوئی نسبت قائم ہی نہیں ہو سکتی۔جب یہ حقیقت انسان کے سامنے آ جائے پھر ان تمام بدیوں سے جو صرف اس دنیوی زندگی کی لذات اور آرام میں اور اُخروی زندگی میں عذاب اور قہر کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں۔ان سے بچنے کی ہر طرح کوشش کرتا ہے۔اگر کبھی پاؤں پھسل جائے تو اپنے خدا کا سہارا لے کر پھر کھڑا ہو جاتا ہے۔گناہ کرے تو اس غار کو پکارتا ہے۔تو بہ کرنے کے لئے تضرع کی راہوں کو اور تواضع کی راہوں کو اختیار کرتا ہے۔قرآن کریم پر غور کرتا رہتا ہے۔اس عزم اور نیت کے ساتھ کہ میں نے اپنی اخروی زندگی کو بہر حال سنوارنا ہے خواہ مجھے اس زندگی میں کتنی ہی کوفت اور تکلیف اور مصیبت ہی کیوں نہ اٹھانی پڑے۔جب وہ ایسا کر لیتا ہے تب وہ اپنی زندگی کے مقصد کو پالیتا ہے۔خدا تعالیٰ اس سے خوش ہوتا ہے اور وہ اپنے رب سے راضی ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس گروہ میں شامل کرے۔اللھم آمین۔روزنامه الفضل ربوه ۲۴ اگست ۱۹۶۶ ء صفحه ۲ تا ۵)