خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 347 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 347

خطبات ناصر جلد اول ۳۴۷ خطبہ جمعہ ۲۹؍ جولائی ۱۹۶۶ء عذاب سے بچ سکتے ہیں۔جیسا کہ میں نے ایک دو مثالیں دے کر بیان کیا ہے۔(۶) چھٹی صفتِ حسنہ یا اندرونی خوبی قرآن کریم کی جن الفاظ میں بیان کی گئی ہے وہ ذی الطولِ ہے۔یعنی اس اللہ نے یہ کتاب اتاری ہے جو بڑا احسان کرنے والا اور بڑا انعام کرنے والا ہے اور اس کتاب کے نزول کی یہ غرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انعام اور احسان کے جذب کرنے کی راہیں تم پر کھولی جائیں۔اور اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ بھی بتایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم یا فرد کو کوئی احسان یا انعام عطا کرتا ہے تو اس پر بہت سی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ان ذمہ داریوں کا ذکر بھی قرآن مجید میں پایا جاتا ہے۔ان کی طرف بھی ہمیں متوجہ ہونا چاہیے۔انعام واکرام کا ذکر ذی الکول میں ہے۔اس کی سب سے بڑی مثال تو میرے نزدیک وہ ہے۔جو فرمایا اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نعمتى (المائدة : ۴) کہ اسلام اور اسلامی شریعت کے ذریعہ میں نے اپنی شریعت کو نعمت عظمی بنا دیا ہے اور نعمت عظمی کے طور پر میں اسے تمہارے سامنے رکھتا ہوں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے وَاسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً (القمن: ٢١) کہ تم پر ظاہری اور باطنی نعمتوں کو اللہ تعالیٰ نے پانی کی طرح بہا دیا۔جیسے فلڈ (Flood) آتا ہے ہر ایک چیز کے اوپر چھا جاتا ہے اور ہر چیز کو اپنے نیچے لے لیتا ہے۔اسی طرح اللہ کی نعمتوں نے ہمارے نفس نفس اور ہمارے ذرہ ذرہ کو ڈھانپ لیا ہے۔لیکن اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِتَّبِعُوا مَا انْزَلَ اللهُ (لقمن : ۲۲) کہ اب تم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے اس کی تم اتباع کرو۔اگر تم ایسا نہیں کرو گے کفرانِ نعمت کرو گے تو اس کی سزا پاؤ گے۔مگر قرآن کریم اس لئے نازل نہیں کیا گیا کہ خدا کے غضب کو تم جذب کرو اور اس کے قہر کے تم مورد بنو۔قرآن کریم کے نزول کی غرض تو یہ ہے کہ ذی الطولِ خدا کی طرف تمہیں متوجہ کرے اور تم اس کی نعمتوں کو یاد کرتے ہوئے اس کے شکر گزار بندے بنو اور جو ہدایت اور تعلیم اور شریعت اور فرائض اور احکام اس نے نازل کئے ہوئے ہیں ان کی اتباع کرنے والے ہو۔