خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 20 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 20

خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۲۶ نومبر ۱۹۶۵ء اس لئے میں تمام احباب جماعت کو درد بھرے دل کے ساتھ ، نہایت محبت اور پیار کے ساتھ اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آپ آئندہ جلسہ سالانہ پر پہلے کی نسبت زیادہ تعداد میں آئیں تا دنیا بھی یہ دیکھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیش کردہ بشارات کے پورا ہونے میں کوئی وقفہ نہیں ہوا اور یہ جماعت خدا تعالیٰ کے ہاتھ نے کچھ اس طرح تیار کی ہے کہ وہ ہرگز گوارا نہیں کرتی کہ اس کی زندگی کا ایک منٹ بھی ایسا گزرے جس میں اس نے خدا تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کو جذب نہ کیا ہو اور تا دنیا مشاہدہ کرے کہ ہر قسم کی رحمتیں ، ہر قسم کے فضل اور ہر قسم کی بشارتیں ، دین کے لئے اور دنیا کے لئے اس جماعت کو دی گئی ہیں۔پس ہماری یہ کوشش ہونی چاہیے کہ ان میں سے ہر ایک بشارت سے ہم وافر حصہ لینے والے ہوں اور اس میں شک نہیں کہ اس کے لئے آپ کو اس سال زیادہ مالی قربانی دینی پڑے گی لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ مالی قربانی کئے بغیر آپ ان فضلوں کے وارث بھی نہیں بن سکتے جن فضلوں کا وارث آپ کو خدا تعالیٰ بنانا چاہتا ہے۔وہ دن قریب ہیں کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو خارق عادت طور پر ترقی بخشے گا اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ اس میں شامل ہوں گے لیکن ان دنوں کو قریب تر لانے کے لئے ہمیں بھی بہت کچھ قربانیاں دینی ہوں گی۔جب قربانی کا لفظ منہ سے نکلتا ہے تو شرم محسوس ہوتی ہے کیونکہ جو کچھ خدا سے ہمیں ملا اس میں سے ایک حصہ کو پھر اسی کی طرف واپس لوٹا دینے کو ہم کس منہ سے قربانی کہہ سکتے ہیں؟ بہر حال جو کچھ اس نے ہمیں دیا ہمیں ہر وقت تیار رہنا چاہیے کہ اس کے حضور ہم واپس کر دیں اور اس کی رضا کی خاطر اس کی راہ میں خرچ کر دیں۔اپنے اوقات عزیزہ کو بھی ، اپنے مالوں کو بھی ، اپنی دلچسپیوں اور خواہشات کو بھی اور اپنے آراموں کو بھی۔تاہم اس کے فضلوں کے زیادہ سے زیادہ وارث بنیں۔اول تو تمام جماعت کو جو ا کناف عالم میں پھیلی ہوئی ہے آج میں یہ پیغام دیتا ہوں کہ خدا کے فضلوں کو جذب کرنے کے لئے آپ اپنے سالانہ جلسہ پر ضرور آئیں۔جہاں تک ممکن ہو اور جہاں تک اللہ تعالیٰ آپ کو طاقت اور استطاعت بخشے آپ اس میں شمولیت کی کوشش کر یں۔دوسرے میں ان احباب جماعت کی خدمت میں جو ربوہ سے باہر رہتے ہیں یہ کہنا چاہتا