خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 19
خطبات ناصر جلد اول ۱۹ خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۶۵ء پہلا جلسہ تھا اس میں حاضری کی تعداد گری نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑھی حالانکہ یہ جلسہ ایسے وقت میں منعقد ہوا جبکہ ایک گروہ جماعت سے علیحدہ ہو گیا تھا، خلافت کا منکر ہو چکا تھا۔یہ جلسہ ایسے وقت میں ہوا جبکہ سینکڑوں آدمی خلافت سے منحرف ہو کر خلافت کی تنظیم سے باہر نکل چکے تھے۔بظاہر ۱۹۱۴ء کے جلسہ کی حاضری کم ہو جانی چاہیے تھی لیکن خدا تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ یہ تعداد گری نہیں بلکہ بڑھی۔چنانچہ الفضل ۳۱ دسمبر ۱۹۱۴ء کی رپورٹ کے مطابق اس جلسہ میں ۳۲۵۰ مہمان باہر سے شامل ہوئے۔اس طرح اڑھائی سو کی حاضری زیادہ ہوئی۔اڑھائی سو کی اس زیادتی کا مطلب یہ ہے کہ ان نامساعد حالات میں بھی 4 فیصدی کا اضافہ ہوا اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے زمانہ کے آخری جلسہ ۱۹۶۴ء میں حاضری کا اندازہ ۸۰ ہزار اور ایک لاکھ کے درمیان کا ہے۔یعنی بعض لوگوں کا تو خیال ہے کہ اس جلسہ پر حاضری ایک لاکھ تھی اور غالباً اخبار میں بھی یہی چھپا ہے لیکن بعض لوگ جو کنزرویٹو خیال کے ہیں یعنی بہت محتاط اندازہ لگانے والے ہیں ، وہ مردوں اور عورتوں کی حاضری کا اندازہ ۸۰ ہزار بتاتے ہیں۔پس خلافت ثانیہ کے زمانہ میں جماعت نے جو ترقی کی اس سے وہ بشارتیں پوری ہو ئیں جو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دی تھیں۔ایک سرسری اور طائرانہ نظر آپ تمام گزشتہ جلسوں پر ڈالیں تو آپ کے سامنے گراف کی شکل میں ایک تصویر آجاتی ہے کہ کس طرح یہ جماعت چھوٹی سی بلندی سے تیزی کے ساتھ آسمان کی طرف چڑھتی گئی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے اندازہ کے مطابق حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی وفات کے موقع پر ۳۵ ہزار اور ۴۵ ہزار کے درمیان دوست باہر سے ربوہ تشریف لائے تا کہ حضور رضی اللہ عنہ کا دیدار کر سکیں اور جنازے میں شامل ہو سکیں۔اس طرح ایک بڑا مالی بار جماعت کے کندھوں پر پڑا ہے لیکن خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطرہ، مسیح موعود کے مشن کی کامیابی کی خاطر اور الہی برکات کے حصول کی خاطر جن کے ہمیں وعدے دئے گئے ہیں ہمیں اپنے مالوں کو بہر حال قربان کرنا پڑے گا کیونکہ مومن اپنے کو خدا کے فضلوں سے محروم کرنا ہر گز پسند نہیں کرتا۔