خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 21
خطبات ناصر جلد اول ۲۱ خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۶۵ء ہوں کہ اب جلسہ کے ایام میں مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے کام اتنا بڑھ جاتا ہے کہ صرف ربوہ کے رضا کار اس تمام کام کو خوش اسلوبی سے سرانجام نہیں دے سکتے۔اس لئے اے نوجوانانِ احمدیت ! اے خدام الاحمدیہ !! جلسہ کے کام کے لئے اپنی خدمات پیش کرو اور بطور رضا کار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی خدمت کرو۔ان دنوں میں دراصل کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کون میزبان اور کون مہمان ہے۔کیونکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو ہم سب ہی مہمان ہیں اور ہمارا میزبان خدا کا وہ مسیح ہے جس نے اس لنگر کو جاری کیا جہاں خدا کے فرشتوں کی لائی ہوئی روٹی تقسیم ہوتی ہے۔اہالیان ربوہ کو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ میں سے کوئی شخص بھی ایسا نہ رہے جو طاقت رکھتے ہوئے بھی اپنی خدمات کو رضا کارانہ طور پر پیش نہ کرے۔بے شک بعض مجبوریاں بھی ہوتی ہیں۔پس جہاں تک جائز مجبوریوں اور ضرورتوں کا تعلق ہے کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو معاف کرے اور باوجودیکہ آپ ان مجبوریوں کی وجہ سے اس خدمت سے محروم ہو جائیں پھر بھی وہ اپنے فضلوں میں آپ کو برابر کا شریک ٹھہرا لے۔لیکن جن کو کوئی مجبوری نہیں ان میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ جلسہ کے لئے اپنی خدمات کو پیش کرے۔اپنی جماعت میں جذبہ خدمت کے ایسے نظارے میں بچپن سے دیکھتا آیا ہوں کہ دنیا میں کم نظر آتے ہیں اور ہر احمدی کے لئے قابل فخر ہیں ان میں سے اس وقت میں ایک بیان کر دیتا ہوں۔میں ابھی بچہ ہی تھا اور افسر جلسہ سالانہ کے دفتر میں بطور معاون کام کر رہا تھا۔ایک دن عشاء کے بعد حضرت میر محمد اسحاق صاحب نے جو افسر جلسہ سالانہ تھے مجھے فرمایا کہ مدرسہ احمدیہ کے کمروں میں جہاں جہاں مہمان ٹھہرے ہوئے تھے جا کر دیکھو کہ کوئی مہمان بھوکا تو نہیں رہا۔چنانچہ میں نے چکر لگایا اور ایک کمرے کا دروازہ کھولا۔ابھی وہ دروازہ تھوڑا سا ہی کھلا تھا کہ میں نے اندر ایک عجیب واقعہ ہوتے دیکھا۔بات یہ تھی کہ اس شام کو معاونین جلسہ کے لئے چائے تقسیم کی گئی تھی۔اس کمرے کا معاون ایک آبخورے میں چائے لے کر جب اس کمرے میں پہنچا تھا تو اس کمرے میں ایک مہمان بیمار