خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 256
خطبات ناصر جلد اول ۲۵۶ خطبہ جمعہ ۱۳ رمئی ۱۹۶۶ء نا کام اور نامراد کرتا ہے وہ کامیابی کا منہ کبھی نہیں دیکھتے اور عاقبت ہمیشہ متقی لوگوں کے لئے ہی ہوتی ہے۔آخری کامیابی صرف مومنوں کو ہی نصیب ہوتی ہے آخری فتح صرف ان لوگوں کو ہی ملتی ہے جو نہایت عاجزی اور انکسار کے ساتھ اپنے رب کی چوکھٹ پر پڑے رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان متکبر ان کو کامیابی کی راہیں کبھی نہیں ملیں گی اور وہ راستے جوان کے لئے مصیبت بن جائیں گے ان کو وہ خوشی سے قبول کر لیں گے اور نہیں جانیں گے کہ ان کا انجام کیا ہے اور جب وہ اس راستہ پر چل کر اپنے زعم میں خوشی خوشی منزل پر پہنچیں گے تو اس منزل کو نارِ جہنم پائیں گے اور یہ اس لئے ہو گا کہ انہوں نے تکبر کیا ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے غفلت برتی۔یہ ایک نہایت ہی بھیانک سزا ہے جو ان لوگوں کے لئے تجویز کی گئی ہے جو تکبر سے کام لیتے ہیں اور جس کے نتیجہ میں وہ اللہ تعالیٰ کے نشانات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔البی سلسلہ میں نشانات اور آیات کا ایک دریا بہہ رہا ہوتا ہے اور جماعت مومنین کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ ان آیات اور نشانات کو دیکھے، ان کو سمجھے اور جس غرض کے لئے وہ نشانات ظاہر کئے گئے ہیں اس کو وہ پورا کرے۔اسی طرح جو فائدہ ممکن طور پر وہ اس سے اٹھا سکتی ہو اس سے اٹھائے اور یہ صرف کافروں کے لئے ہی نہیں ، مومنوں کے لئے بھی فرض ہے کہ وہ تکبر کی بار یک سے باریک راہوں سے اجتناب کرتے ہوئے آسمانی نشانات اور آیات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ کا فیضان جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اسلام میں جاری ہوا وہ فیضان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل اب پھر سے ہم جیسے کمزور اور ناتوان اور عاجز بندوں کو ملنا شروع ہو گیا ہے اور اللہ تعالیٰ لاکھوں نشانات جماعت احمدیہ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے بعد بھی دکھلا چکا ہے۔اور جب بھی کرائسز (Crisis) یعنی خطرناک حالات پیدا ہو جاتے ہیں آسمان سے نشانات بارش کی طرح نازل ہونے لگتے ہیں۔۱۹۵۳ء میں ہم نے آسمان سے بارش کی طرح نشانات کا نزول دیکھا۔پھر جب فرقان بٹالین محاذ