خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 257 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 257

خطبات ناصر جلد اوّل ۲۵۷ خطبہ جمعہ ۱۳ رمئی ۱۹۶۶ء پر گئی تو اس وقت اس بٹالین کے پانچ چھ سو نو جوانوں نے بارش کی طرح آسمان سے اللہ تعالیٰ کے نشانات اور آیات کو نازل ہوتے دیکھا۔پھر جہاں اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کے بزرگ افراد کو انفرادی طور پر اپنے نشانات سے نوازتا ہے وہاں وہ جماعت کو بحیثیت جماعت بھی اپنے نشانات، آیات اور معجزات سے نوازتا رہتا ہے اور جماعت کے افراد کا فرض ہے کہ وہ جب خدا تعالیٰ کے اس احسان کو دیکھیں تو ان کے دل میں رائی کے کروڑویں حصہ کے برابر بھی تکبر پیدا نہ ہو۔وہ نہایت عاجزی کے ساتھ خدا تعالیٰ کے ان احسانوں کا شکر یہ ادا کرنے والے ہوں تا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کی شکر گزاری کے نتیجہ میں جماعت کو پہلے سے زیادہ نشانات اور آیات دکھاتا چلا جائے۔اس وقت میں ان تین باتوں کی طرف جو قرآن کریم نے بیان فرمائی ہیں احباب کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔اول یہ کہ اگر شرک کی باریک راہوں سے بچنا ہو تو کسی قسم کا بھی تکبر ہمارے دلوں میں پیدا نہیں ہونا چاہیے۔دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی تعلیم اور ہدایت کا ہم نے حق ادا کرنا ہو تو پھر بھی ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہمارے دل اور نفس میں کسی قسم کا تکبر پیدا نہ ہو۔تیسرے اگر ان آیات سے جو اللہ تعالیٰ ہمارے لئے آسمان سے نازل فرما رہا ہو۔ہم نے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا ہو اور استفاضہ کرنا ہو تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم تکبر سے اس طرح ڈرنے والے اور بیچنے والے ہوں جس طرح کہ ہم دیکھتی ہوئی آگ میں جان بوجھ کر اپنا ہاتھ ڈالنے سے بچتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔روزنامه الفضل ربوہ یکم جون ۱۹۶۶ء صفحه ۲ تا ۴)