خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 199 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 199

خطبات ناصر جلد اول ۱۹۹ خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۶۶ء ایسے سامان پیدا کر دوں گا کہ ہمارے درمیان کوئی غیریت باقی نہیں رہے گی۔تب میری غیرت تمہارے لئے جوش میں آئے گی اور تم اپنے مقاصد کو حاصل کر سکو گے۔غرض اس مختصر سی آیت میں اللہ تعالیٰ نے بڑے وسیع مضامین بیان کئے ہیں۔جن کا اختصار کے ساتھ میں نے ذکر کیا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَقَد كَنَّ بتھ یعنی تم لوگ دعا کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اور اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس جماعت میں شامل نہیں ہوتے جو صبح و شام دعاؤں میں مشغول رہنے والی ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اس بات کو جھٹلا رہے ہو کہ دعا کے بغیر خدا تعالیٰ کی نگاہ میں نہ اعمال کا کوئی وزن ہے اور نہ کسی قوم یا کسی انسان کی کوئی قدر و منزلت ہے تم اس بات سے بھی انکاری ہو کہ تمہاری مدد کے لئے خدائے قیوم کے حکم، منشا اور ارادہ کی ضرورت ہے تم اس بات کو بھی جھٹلا رہے ہو کہ انسان کامیابی صرف اسی صورت میں حاصل کر سکتا ہے جب اس کے مقصد کے حصول کے لئے آسمان سے ملائکہ کی افواج نازل ہوں اور وہ بنی نوع انسان کے دلوں میں ایک پاک تبدیلی پیدا کر دیں تم اس بات کو بھی جھٹلا رہے ہو کہ جب تک تم میں اور خدا تعالیٰ میں غیریت قائم رہے گی خدا تعالیٰ کی مدد نازل نہیں ہوگی۔فَسَوْفَ يَكُونُ لِزاما چونکہ تم ان صداقتوں کو جھٹلا رہے ہو اس لئے تمہاری اس تکذیب اور انکار کے نتائج تمہارے ساتھ اور تمہاری نسلوں کے ساتھ ثابت اور دائم رہیں گے یعنی تمہیں اور تمہاری نسلوں کو اس کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔جب تک کہ تم اپنی اصلاح نہ کر لو۔لزام کے ایک معنی موت کے بھی ہیں ان معنوں کی رو سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ چونکہ تم اس بنیادی صداقت کو جھٹلاتے ہو اس لئے یاد رکھو فَسَوفَ يَكُونُ لِزَامًا کہ جلد ہی تمہیں ہلاکت اور موت کا منہ دیکھنا پڑے گا۔پھر لزامًا کے معنی اَلْفَضْلُ فِي الْقَضِيَّةِ کے بھی ہیں ان معنوں کی رو سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دنیا میں اس وقت دو گروہ پیدا ہو گئے ہیں ایک گروہ وہ ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ الہی سلسلہ کی طرف منسوب ہونے والا ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا منشا اور ارادہ یہ ہے کہ وہ ساری دنیا پر اسلام کو غالب کرے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لئے اسلام کی تعلیم پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے اور اسلام کی اس تعلیم کو جاننے ، اللہ تعالیٰ۔