خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 200 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 200

خطبات ناصر جلد اول ۲۰۰ خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۶۶ء کا عرفان حاصل کرنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دلوں میں پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کے مامور پر ایمان لایا جاوے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسلام باوجود تدابیر کی کمی کے باوجود ذرائع اور وسائل کے فقدان کے دنیا پر غالب آئے گا اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت کے ماتحت ہی غالب ہوگا۔دوسرا گروہ وہ ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ پہلے گروہ کے تمام دعاوی جھوٹے اور غلط ہیں اس گروہ کا ایک حصہ تو یہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا وجود ہی نہیں اور سارے مذاہب ہی جھوٹے ہیں اور مذہب کے نام پر کئے جانے والے جتنے دعاوی ہیں ہم کسی کو بھی ماننے کے لئے تیار نہیں پھر ایک گروہ اس جماعت کا وہ ہے جو کہتا ہے کہ خدا ہے اور وہ یہ بھی لکھتا ہے کہ خدا دنیا کی اصلاح کے لئے اپنے انبیاء مبعوث فرما تا رہا ہے لیکن وہ یہ نہیں مانتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء اور افضل الانبیاء ہیں اور جو شریعت اور ہدایت آپ کے ذریعہ بنی نوع انسان کو دی گئی ہے وہ بنی نوع انسان کی قیامت تک کی تمام الجھنوں کو سلجھانے کے لئے کافی ہے اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے پھر اس گروہ کا ایک حصہ وہ ہے جو اپنی زبان سے تو کہتا ہے کہ اسلام خدا تعالیٰ کا سچا مذہب ہے لیکن اپنی کسی باطنی یا ظاہری غفلت یا گناہ کے نتیجہ میں وہ یہ نہیں سمجھ سکتا یا سمجھ نہیں رہا کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو اس مقصد اور غرض کے لئے کھڑا کیا ہے کہ تمام اکناف عالم اور تمام اقوام عالم میں اسلام کو پھیلایا جائے حتی کہ تمام ادیان باطلہ پر اس کا غلبہ ہو جائے۔غرض یہ دو گروہ ہیں ان کے درمیان ایک قضیہ ( جھگڑا) ہے اور یہ قضیہ ظاہر ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَسَوْفَ يَكُونُ لزاما۔اللہ تعالی یہ فیصلہ کرنے والا ہے کہ جماعت احمدیہ کا موقف ہی صحیح اور درست ہے اور یہ کہ یہ چھوٹی سی کمزور اور حقیر سمجھی جانے والی جماعت اموال نہ ہونے کے باوجو د ذ رائع ووسائل مہیانہ ہونے کے باوجود اور دنیا میں کسی اقتدار اور وجاہت کے نہ ہونے کے باوجود صرف اس لئے کامیاب ہوگی کہ وہ اپنے رب کریم کی طرف جھکنے والی ہے اور ہر وقت دعاؤں میں مشغول رہنے والی ہے۔(انشاء اللہ تعالیٰ ) غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَسَوفَ يَكُونُ لِذَا ما میرا یہ فیصلہ ہے اور یہ فیصلہ عنقریب ہی وقت آنے پر تمہارے سامنے ظاہر ہو جائے گا اور جب یہ حقیقت ہے کہ اگر دنیا