خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 198
خطبات ناصر جلد اول ۱۹۸ خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۶۶ء اول یہ کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جب تک تم میرے حضور عاجزی اور انکسار کے ساتھ نہیں جھکو گے اور مجھ سے مدد طلب نہیں کرو گے اور میری قوت کاملہ پر بھروسہ نہیں کرو گے اور یہ یقین پیدا نہیں کرو گے کہ تم میرے فضل کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتے اس وقت تک میری نظر میں تمہاری کوئی قدر و منزلت نہیں ہوگی اور تمہارے اعمال میری نظر میں کوئی وزن نہیں رکھیں گے۔يَعْبَؤُا کے دوسرے معنوں کے مطابق اللہ تعالیٰ اس آیت میں یہ فرماتا ہے کہ جب تم دعا سے کام نہیں لو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری بقا کے سامان نہیں کرے گا مَا يُبقِيكُمْ لَوْلاَ دُعَاؤُكُمْ یعنی عاجزانہ دعاؤں کے بغیر تمہارے لئے قیومیت باری کے جلوے ظاہر نہیں ہوں گے۔تیسرے معنوں کی رو سے قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمُ ربع کی یہ تفسیر ہو گی کہ تمہیں جان لینا چاہیے کہ تمہاری تیاریاں اس وقت تک تمہیں کامیابی کا منہ نہیں دکھا سکیں گی جب تک کہ آسمان سے ملائکہ کی افواج کا نزول نہ ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں تمہیں بتا تا ہوں کہ اگر تم چاہتے ہو کہ میرے اذن اور حکم سے آسمان سے فرشتے اتریں اور تمہاری مدد کریں تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم دعا کے ذریعہ میری اس نعمت کو حاصل کرو۔کیونکہ عَبَاتُ الْجَيْش کے معنی ہیں حیاته یعنی لشکر کو پورے ساز و سامان کے ساتھ تیار کر دیا اور اسے حکم دیا کہ جس مقصد کے لئے اسے تیار کیا گیا ہے۔اس کے حصول کے لئے باہر نکلے۔چوتھے حمیت کے معنوں کی رو سے اس آیت کا یہ مفہوم ہو گا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے غیرت نہیں رکھے گا اور غیرت نہیں دکھائے گا جب تک کہ تم دعاؤں کے ذریعہ سے اس کی غیرت کو تلاش نہ کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ایک جگہ فرمایا ہے۔اب غیروں سے لڑائی کے معنی ہی کیا ہوئے تم خود ہی غیر بن کے محل سزا ہوئے پس یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس غیریت کے پردہ کو صرف دعا ہی چاک کر سکتی ہے اگر تم دعاؤں کے ذریعہ اور میری محبت کے واسطہ سے میری مدد اور نصرت کے متلاشی ہو گے تو میں