خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 154
خطبات ناصر جلد اوّل ۱۵۴ خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۶۶ء جانے کا حکم دیا یہ پانی اپنے ساتھ پہاڑوں سے پیداوار بڑھانے والی مٹی کے اجزا لے آیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے ان ذرات ارضی کو حکم دیا کہ اس شخص کی زمین میں ٹھہر جاؤ۔تمہارا سفرختم ہو چکا چنا نچہ وہ ذرات ارضی اس کی بنجر زمین میں ٹھہر گئے اور اس طرح جس ایکڑ سے وہ شخص ہمشکل دو تین من گندم سالانہ پیدا کرتا تھا اور ادھی پچدھی کھا کر گزارا کرتا تھا اسی زمین میں اتنی طاقت اور زندگی پیدا ہوگئی کہ اب اس میں پندرہ پندرہ من گندم سالانہ پیدا ہونے لگی۔اسی طرح ایک اور زمیندار ہے اس کی زمین بڑی اچھی ہے اس میں بہت زیادہ پیداوار ہوتی ہے اور اس کی زرخیزی مالک کی آمد میں بہت اضافہ کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ جو آسمان سے حکم بھیج کر غریب اور مفلس لوگوں کو مالدار بنا دیتا ہے اور مالداروں کو مفلس اور قلاش بنا دیتا ہے اس زرخیز زمین میں تھور اور سیم پیدا کر کے اسے بنجر بنا دیتا ہے اور اس طرح اس کی آمد کم ہو جاتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ کسی مالدار کو مفلس اور قلاش بنادینا یا کسی غریب اور مفلس کو مالدار اور غنی بنا دینا میرے اختیار میں ہے اس لئے اگر تم مجھ سے کوئی سودا کرو گے تو اس میں تمہیں کوئی گھاٹا نہیں ہوگا۔کیونکہ میں قادر مطلق اور رزاق ہوں۔پھر قبض کے معنی مضبوطی سے پکڑ لینے کے بھی ہوتے ہیں اور مضبوطی سے اس شئے کو پکڑا جاتا ہے جس کے متعلق فیصلہ ہو کہ اسے چھوڑنا نہیں۔کیونکہ اگر اسے چھوڑا تو نقصان ہو گا۔ان معنوں کے رو سے اللہ تعالیٰ اس آیت میں یہ بیان فرماتا ہے کہ جو مال تم میرے سامنے بطور ہدیہ پیش کرو گے میں اسے مضبوطی سے پکڑلوں گا یعنی اسے ضائع نہیں ہونے دوں گا یہ میرا تمہارے ساتھ وعدہ ہے جسے میں بہر حال پورا کروں گا ان معنوں کی رو سے اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کو بڑی امید دلاتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ وہ غنی ہے اور اسے تمہارے اموال کی حاجت نہیں لیکن تمہاری پاک نیتوں اور محبت اور فنافی الکبی کو دیکھتے ہوئے وہ اپنی رحمت سے تمہیں نوازتا ہے اور شکر اور پیار کے ساتھ تمہاری مالی قربانیوں کو قبول کرتا ہے اور مضبوطی کے ساتھ انہیں پکڑ لیتا ہے اور انہیں ضائع نہیں ہونے دیتا بلکہ وَ يَبسُط اپنی بے پایاں عطا بھی اس میں شامل کرتا ہے اور انہیں بڑھا کر اور وسعت دے کر کہیں سے کہیں لے جاتا ہے اور وہ تمہیں اس دنیا میں بھی اپنی عطائے کثیر کا دو