خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 155
خطبات ناصر جلد اول ܬܙ خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۶۶ء حقدار بنا دیتا ہے اور جب تم لوٹ کر اس کی طرف جاؤ گے تو وہ بڑے پیار سے تمہیں کہے گا یہ لو اپنے مال جو تم نے میری راہ میں خرچ کئے تھے دیکھو میں نے تمہارے لئے انہیں کس قدر بڑھایا اور ان میں کس قدر کثرت اور وسعت بخشی۔پس خوش ہو کر اپنے رب کے ساتھ کبھی کوئی گھاٹے کا سود انہیں کرتا۔غرض دوستوں کو یہ نکتہ سمجھنا چاہیے اور اسے ہر دم اپنے مد نظر رکھنا چاہیے کہ دین اور سلسلہ کے لئے جب بھی ان کے مالوں کی ضرورت پیش آئے۔انہیں وہ اموال بغیر کسی خوف اور بغیر کسی خطرہ کے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کر دینے چاہئیں کیونکہ وہ جو خدا تعالیٰ سے سودا کرتا ہے ہمیشہ نفع میں ہی رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ نفع مند سودوں کی توفیق عطا فرمائے۔روزنامه الفضل ربوه ۲۷ فروری ۱۹۶۶ ء صفحه ۲ تا ۵)