خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 153
خطبات ناصر جلد اوّل ۱۵۳ خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۶۶ء اور بڑی تکلیف میں زندگی گزارتا ہے ایک دن اللہ تعالیٰ اس پر رحم کر دیتا ہے اور اس کے اموال اور اس کے کاروبار میں برکت ڈال دیتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اس پر فراخی اور کشائش کا دور آجاتا ہے ابھی چند دن ہوئے مجھے اس قسم کی بھی ایک مثال ملی ہے ایک دوست مجھے ملنے کے لئے آئے انہوں نے مجھے بتایا کہ میں ایک غریب گھرانہ کا فرد ہوں میری آمد بہت کم تھی اور گزارہ مشکل سے ہوتا تھا لیکن ایک دن اللہ تعالیٰ نے کچھ اس قسم کی تبدیلی پیدا کر دی کہ اب میرے کا روبار میں برکت ہی برکت ہے اور خدا تعالیٰ بہت کچھ دے رہا ہے میری غربت اور افلاس کی حالت دور ہو گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے رزق میں فراخی پیدا ہوگئی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مال کو روک رکھنا کہ وہ کسی خاص فرد کو نہ ملے یا مال کو حکم دینا کہ فلاں کے پاس چلے جاؤ۔یہ صرف میرا کام ہے اور کسی کا نہیں اور اگر یہ میرا کام ہے تو جب بھی کوئی شخص میری راہ میں خرچ کرے گا تو اسے امید رکھنی چاہیے کہ میں جس نے اپنی قدرت کی تاریں ساری دنیا میں پھیلا رکھی ہیں اسے مایوس نہیں کروں گا بلکہ اس کے مالوں میں اور اس کی زندگی میں زیادہ سے زیادہ برکت ڈالتا چلا جاؤں گا۔دوسرے معنی يَقْبِضُ وَيَبسُط کے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کسی ملک یا کسی خاندان یا کسی فرد کے سرمایہ یا جائیداد کی پیداوار میں اضافہ کر دیتا ہے یا کمی کر دیتا ہے اور یہ نہیں ہوتا کہ مال یہاں سے لیا اور وہاں رکھ دیا اس سے لیا اور اسے دے دیا۔پہلے معنوں کی رو سے تو یہ تھا کہ مال کسی سے لیا اور دوسرے کو دے دیا ایک کے کاروبار میں بے برکتی ڈالی اور دوسرے میں برکت ڈال دی۔لیکن ان معنوں کی رو سے یہ شکل ہوگی کہ اللہ تعالیٰ بغیر اس کے کہ کسی کے کاروبار اور اموال میں بے برکتی ڈالے۔وہ دوسرے کے کاروبار اور اموال میں زیادتی اور افزائش پیدا کر دیتا ہے یا وسرے کے کاروبار اور اموال میں زیادتی کئے بغیر اس کے اموال اور کاروبار کو کم کر دیتا ہے مثلاً ایک زمیندار ہے اس کی زمین بنجر تھی اس میں کوئی پیداوار نہیں ہوتی تھی یا اگر ہوتی تھی تو بہت کم۔اللہ تعالیٰ نے سمندروں سے پانی کو بادلوں کے ذریعہ اُٹھایا پھر وہ بادل ایسی جگہ بر سے کہ بعض دریاؤں میں طغیانی آگئی۔اللہ تعالیٰ نے اس طغیانی کے پانی کو اس شخص کی بنجر زمین میں پھیل