خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 996 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 996

خطبات ناصر جلد اوّل ۹۹۶ خطبہ جمعہ ۸/دسمبر ۱۹۶۷ء ہدایت بھی ہے حکمت بھی ہے نور بھی ہے۔ہر زمانہ میں ہر مہینہ میں ان قرآنی برکات کے حصول کی کوشش کرتے رہا کرو لیکن رمضان میں آسمان سے رحمتوں کا نزول دوسرے مہینوں کی نسبت کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے اور قبولیت جو انسان کو حاصل ہو سکتی ہے وہ بھی اس مہینہ میں زیادہ حاصل ہوسکتی ہے اور اس کے آخر میں فرمایا تھا کہ تم اللہ تعالیٰ کی کبریائی کو کثرت سے بیان کرو اور اس کے شکر کی طرف متوجہ ہو اور شکر میں اور کبریائی میں دعا اور قبولیت دعا کی طرف اشارہ تھا جسے اس آیت میں کھول کر بیان کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ اگر میرے بندے یہ سوال کریں کہ اللہ کا قرب کیسے حاصل ہوسکتا ہے تو انہیں میری طرف سے کہو کہ میں تو قریب ہوں اُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ رمضان کے روزوں اور دوسری عبادتوں کے نتیجہ میں میں اور بھی قریب ہو گیا ہوں اور میرے قرب پر یہ بات شاہد ہے کہ دعا کرنے والے کی دعا کو میں قبول کرتا ہوں لیکن دعا کو اپنی شرائط کے ساتھ کرنا چاہیے اور دعا کی جو شرائط اسلام نے بتائی ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جن پر بڑی وضاحت سے روشنی ڈالی ہے وہ ساری کی ساری ان دو لفظوں میں آجاتی ہیں کہ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي اللَّہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا ہے کہ میں تمہاری دعا کو قبول کروں گا لیکن بنیادی طور پر دو شرطیں ہیں۔ایک تو یہ کہ تم میرا حکم ماننے والے ہو کوئی ایسی دعا نہ ہو جو میرے اوامر اور نواہی کے خلاف ہو۔مثلاً اللہ تعالیٰ حکم یہ دے کہ ہمسائے سے حسنِ سلوک کرو اور ہمسایہ بغض اور حسد سے یہ دعا کر رہا ہو کہ خدا اس کو تباہ کرے اس کے بچوں کو مار دے اس کے رزق میں بے برکتی ڈال۔تو ایسی دعا اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف ہو گی اور رڈ کر دی جائے گی اور قبول نہیں کی جائے گی۔تو اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا اگر تم دعا کی شرط کو مدنظر رکھو اور پہلی شرط یہ ہے کہ فَلْيَسْتَجِيبُوائی کہ میرے حکم کو وہ ما نہیں جو بھی احکام اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں دیئے ہیں اور جن کی وضاحت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ میں اور پھر آپ کے ارشادات میں پائی جاتی ہے اور جس پر بڑی سیر کن بحث حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتب اور اپنی تحریروں اور تقریروں میں کی ہے ان احکام کو مدنظر رکھتے ہوئے جو دعا قبول کی