خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 995
خطبات ناصر جلد اول ۹۹۵ خطبہ جمعہ ۸/دسمبر ۱۹۶۷ء رمضان کے روزوں اور عبادات کا بڑا گہرا تعلق دُعا اور قبولیت کے ساتھ ہے خطبہ جمعہ فرموده ۸ / دسمبر ۱۹۶۷ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور پرنور نے b وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِى فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ۔(البقرة : ۱۸۷) وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَ جَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللهِ وَ الَّذِينَ أُووُا وَ نَصَرُوا أُولَبِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ - (الانفال: ۷۵) کی بھی تلاوت فرمائی پھر فرمایا۔رمضان کے مہینے کا اور رمضان کے روزوں اور عبادات کا بڑا گہرا تعلق دعا اور قبولیت دعا کے ساتھ ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسی لئے یہ فرمایا ہے کہ روزہ میرے لئے رکھا جاتا ہے اور میں خود اس کی جزا ہوں گا اور وہ خود ہی اس کی جزا بن جاتا ہے۔اسے اپنا قرب عطا کرتا ہے اور اپنے پیار اور محبت کا سلوک اس سے کرتا ہے اور پیار اور محبت کے سلوک میں بڑا ہی پیارا سلوک قبولیتِ دعا کا ہے۔اللہ تعالیٰ نے وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيب سے پہلے یہ فرمایا تھا کہ قرآن میں