خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 997
خطبات ناصر جلد اوّل ۹۹۷ خطبہ جمعہ ۸/دسمبر ۱۹۶۷ء جائے گی وہ دعا کی ایک شرط کو پورا کر رہی ہوگی اور اگر باقی شرائط بھی پوری ہوں تو پھر وہ دعا قبول ہو جائے گی۔دوسری اصولی شرط یہ ہے کہ وَلْيُؤْمِنُوا پی میری ذات اور میری صفات پر کامل ایمان رکھتے ہوں اگر کسی شخص کے دل میں یہ خیال ہو مثلاً کہ میرا بچہ اس قدر بیمار ہو چکا ہے کہ اللہ بھی اس کو شفا نہیں دے سکتا تو اس کی دعا کیسے قبول ہوگی اس صورت میں اس کی دعا توسطحی اور محض زبان کے الفاظ ہوں گے جن کے اندر کوئی حقیقت جن کے اندر کوئی روح نہیں پائی جاتی۔جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا محبوب اور پیارا رب اس کی دعا کو قبول کرے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس حکم کو سامنے رکھے کہ وَلْيُؤْمِنُوا ئی کہ میری ذات اور میری صفات پر کامل ایمان رکھنے کے بعد جود عاتم کرو گے وہ میں قبول کروں گا مثلاً مجھے قادر مطلق سمجھو گے صرف میری طرف جھک رہے ہو گے اگر ایک شخص اللہ تعالیٰ کو رزاق نہیں سمجھتا اور رشوت پر توکل رکھتا ہے تو اس کی یہ دعا کہ اے خدا میرے مال میں برکت ڈال قبول نہیں ہو سکتی۔کیونکہ وَلْيُؤْمِنُوا پی کے خلاف ہے۔ہر دو اصولی شرائط کے خلاف ہے۔خدا تعالیٰ کی حکم عدولی بھی کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کو حقیقی معنی میں رزاق بھی نہیں سمجھا گیا۔جس شخص پر اللہ تعالیٰ کی صفت الرزاق “ کا جلوہ ہو جاتا ہے وہ ہر قسم کے مال حرام سے پر ہیز کرنے کی انتہائی کوشش کرتا ہے وہ جانتا ہے کہ میری ساری ضرورتوں کو پورا کرنے والا میرا رب ہے۔تو یہ دو بنیادی شرائط ہیں جو دو حکموں میں یہاں اللہ تعالیٰ نے بڑے لطیف پیرا یہ میں بیان کر دی ہیں کہ اگر ان شرائط کے ساتھ دعا کی جائے گی تو قبول کی جائے گی اور اس سے دو باتیں ثابت ہوں گی۔ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ بندے کے قریب ہے۔رات کی تنہائی اور خاموشی میں ہم دعا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور مہربانی سے ان دعاؤں کو قبول کر لیتا ہے۔دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس بندے کو اسلام پر عمل پیرا ہونے کے نتیجہ میں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کے طفیل اپنا قرب عطا کیا ہے۔کیونکہ قرب دونوں طرف