خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page x
VIII کیا گیا، بیٹے کو باپ کے سامنے قتل کیا تو کیا خاندان کے باقی افراد نے احمدیت چھوڑ دی؟ ان میں اور زیادہ ثبات قدم پیدا ہوا، ان میں اور زیادہ اخلاص پیدا ہوا۔ان میں اور زیادہ جماعت کے ساتھ تعلق پیدا ہوا۔دشمن کی کوئی بھی تدبیر کبھی بھی کارگر نہیں ہوئی اور کبھی کسی کے ایمان میں لغزش نہیں آئی اور پھر اب دیکھیں کہ ان نیکیوں پہ قائم رہنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو جو جانی نقصان ہوا یا جن خاندانوں کو اپنے پیاروں کا جانی نقصان برداشت کرنا پڑا، اگلے جہان میں تو اللہ تعالیٰ نے جزا دینی ہے، اللہ نے اُن کو اس دنیا میں بھی ان کو بے انتہا نوازا ہے۔مالی لحاظ سے بھی اور ایمان کے لحاظ سے بھی۔خطبه جمعه فرموده ۲۱ رمئی ۲۰۰۴ ء بحوالہ خطبات مسر در جلد ۲ صفحه ۳۴۸،۳۴۷) آپ کے خطبات جو کہ قرآنی معارف اور علم و عرفان کے خزانے اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں جماعت کے زریں عہد کی روشن تاریخ کا بنیادی ماخذ بھی ہیں۔ان خطبات یعنی خطبات ناصر کی جلد اول احباب جماعت کی خدمت میں پیش ہے، اس جلد میں نومبر ۱۹۶۵ء سے دسمبر ۱۹۶۷ء کے خطبات شامل کئے گئے ہیں۔بعض خطبات تو ابھی تک غیر مطبوعہ تھے وہ پہلی مرتبہ اس کتاب میں شامل کئے جارہے ہیں، اس کے لئے مکرم محمد صادق صاحب انچارج خلافت لائبریری شکریہ کے مستحق ہیں جنہوں نے اس کام کے لئے ہر ممکن تعاون کیا۔اسی طرح اس پہلی جلد کی تیاری میں کام کرنے والے مکرم مقصود احمد قمر صاحب، مکرم فضل کریم تبسم صاحب اور مکرم حبیب الرحمان زیروی صاحب کی خدمات بھی قابل ذکر ہیں نیز دیگر کام کرنے والوں کے لئے بھی دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ تمام کام کرنے والوں کو جزائے خیر سے نوازے۔فَجَزَاهُمُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاء ۲۰۰۵-۰۸-۱۵ خاکسار ناظر اشاعت