خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page ix
VII احمدیہ بڑی بڑی پوسٹ پر قائم ہیں۔ہمارے گھانا کے ڈپٹی منسٹر آف انرجی جو ہیں انہوں نے احمد یہ سکول میں شروع میں کچھ سال تعلیم حاصل کی۔پھر ایک سکول سے دوسرے سکول میں چلے گئے وہ بھی احمد یہ سکول ہی تھا اور آج ان کو اللہ تعالیٰ نے بڑا رتبہ دیا ہوا ہے۔اسی طرح اور بہت سارے لوگ ہیں۔افریقن ملکوں میں جائیں تو دیکھ کر پتہ لگتا ہے۔یہ سب جو فیض ہیں اس وجہ سے ہیں کہ ڈاکٹر ہوں یا ٹیچر، ایک جذبے کے تحت کام کر رہے ہیں اور یہ سوچ ان کے پیچھے ہوتی ہے کہ ہم جو بھی کام کر رہے ہیں ایک تو ہم نے دعا کرنی ہے، خود اللہ تعالیٰ سے فضل مانگنا ہے اور پھر خلیفہ مسیح کولکھتے چلے جانا ہے تا کہ ان کی دعاؤں سے بھی ہم حصہ پاتے رہیں اور یہ جو فریقن ممالک میں ہمارے سکول اور کالج ہیں اللہ تعالی کے فضل سے تبلیغ کا بھی ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔کل ہی سیرالیون کی رہنے والی ایک خاتون بچوں کے ساتھ مجھے ملنے آئیں۔وہ کہتی ہیں کہ ہمارے ہاں تو خاندان میں اسلام کا پتہ ہی کچھ نہیں تھا۔احمد یہ سکول میں میں نے تعلیم حاصل کی اور وہیں سے مجھے احمدیت کا پتہ لگا اور بڑے اخلاص اور وفا کا اظہار کر رہی تھیں۔وہ بڑی مخلص احمدی خاتون ہیں۔اسی طرح اور بہت سے ہزاروں، لاکھوں کی تعداد میں لوگ ہیں جو ہمارے ان سکولوں سے تعلیم حاصل کر کے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں شامل ہوئے اور اس کی برکات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔پھر خلافت ثالثہ میں ہی آپ دیکھ لیں ، ۷۴ء کا فساد ہوا اس وقت ان کا خیال تھا کہ اب تو احمدیت ختم ہوئی کہ ہوئی، ایک قانون پاس کر دیا کہ ہم ان کو غیر مسلم قرار دے دیں گے تو پتہ نہیں کیا ہو جائے گا۔کئی شہید کئے گئے ، جانی نقصان کے ساتھ ساتھ مالی نقصان بھی پہنچایا گیا۔کاروبارلوٹے گئے، گھروں کو آگیں لگادی گئیں، دکانوں کو آگئیں لگادی گئیں، کارخانوں کو آگیں لگا دی گئیں۔لیکن ہوا کیا ؟ کیا احمدیت ختم ہوگئی؟ پہلے سے بڑھ کر اس کا قدم اور تیز ہو گیا، باپ کو بیٹے کے سامنے قتل