خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 866 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 866

خطبات ناصر جلد اول ۸۶۶ خطبہ جمعہ ۸؍ستمبر ۱۹۶۷ء لے لے تو اس سے انسانیت کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے؟ اگر انسان نے ابدی صداقتوں سے استفادہ کرنا ہے تو یہ ضروری ہے کہ جھوٹ کی جگہ سیچ لے۔یہ ضروری ہے کہ اندھیرے کی جگہ روشنی لے، یہ ضروری ہے کہ ظلمت کی جگہ نورلے، یہ ضروری ہے کہ بتوں کی محبت کی جگہ خدا تعالیٰ کی محبت قائم ہو اور یہ سوائے اسلام کے نہیں ہو سکتا اور یہ جماعت احمدیہ کی ذمہ داری ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جماعت کے قیام کی غرض ہی یہ ہے کہ گمشدہ معرفت کو دنیا میں پھر سے قائم کیا جائے۔تو ہم پر بڑی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان ممالک میں جو خلا پیدا ہورہا ہے اس خلا کو اسلام کے نور سے، اس خلا کو قرآن کریم کے دلائل و براہین سے ، اس خلا کو اللہ تعالیٰ کی محبت سے پر کر دیں تا شیطان پھر کبھی ان فضاؤں میں داخل ہونے کی جرات نہ کر سکے۔اس ذمہ داری کو نباہنے کے لئے پہلے یہ ضروری ہے کہ ہم خود تو حید کے ایک اعلیٰ اور ارفع مقام پر قائم ہوں۔ضروری ہے کہ ہم خود معرفت اور عرفان کے یقینی مقام پر قائم ہوں یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے نفسوں میں اللہ تعالیٰ کی صفات کو ظاہر کرنے والے ہوں یہ ضروری ہے کہ ہم قرآن کریم کے علوم سے اچھی طرح واقف ہوں کہ اس کے بغیر ہم اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر نباہ نہیں سکتے۔ان ذمہ داریوں کو نباہنے کے قابل بننا ہمارے لئے ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالی محض زبان کے دعووں کو پسند نہیں کرتا۔قرآن کریم نے منافقوں کے متعلق یہ بیان کیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو صرف زبان سے دعوی کرتے ہیں اور اس دعویٰ کے بعد جو ذمہ داریاں ان پر عائد ہوتی ہیں ان کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ لَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لَاعَةُ والهُ عُدَّةٌ (التوبة: ٤٦) یہ کہتے ہیں کہ ہم بھی مخلص مومنوں کے ساتھ جہاد پر جانے کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔اگر وہ اپنے دعوی میں سچے ہوتے تو ایک اخلاص رکھنے والے ایک ایثار رکھنے والے مسلمان نے جو جہاد کے لئے تیاری کی تھی یہ لوگ بھی اسی طرح اس کے لئے تیاری کرتے مگر یہاں ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ دعویٰ تو ہے لیکن اس کے لئے تیاری نہیں۔جب تلوار سے دشمن اسلام، اسلام پر حملہ آور ہوا تو اللہ تعالیٰ نے مومن سے کہا کہ جتنی طاقت تمہیں ہے جتنے مادی سامان تم اکٹھے کر سکتے ہو کرو اور میرے اس دشمن کا مقابلہ کرو میں تمہیں