خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 865
خطبات ناصر جلد اوّل خطبہ جمعہ ۸ ستمبر ۱۹۶۷ء علیحدہ ہو گیا تھا لیکن علیحدہ ہونے کے باوجود اپنے عقائد میں وہ پختہ ہیں انتظام میں وہ علیحدہ ہو گیا۔ان کے ساتھ یہ نوجوان جا شامل ہوا میں نے اس کو کہا ( نائب صدر کو ) کہ تم اپنے صدر کو اپنی طرف کھینچو اس کو سمجھا ؤ مسائل۔کہنے لگا میں نے ان سے بہت باتیں کی ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ بس مجھے پتہ نہیں کیا ہوا ، عدم علم کی بنا پر میں ان کے ساتھ شامل ہو گیا ہوں اب حقیقت مجھ پر ظاہر ہوگئی ہے اب آہستہ آہستہ انہیں چھوڑ کے جو چیز حقیقی احمدیت اور اسلام ہے اس کی طرف واپس لوٹ آؤں گا۔تو ان نوجوانوں کے دل میں بھی محبت ہے اسلام اور احمدیت کی اور ان کے ذہنوں میں نور ہے۔اسلام کے دلائل اور براہین عقل میں جو نور پیدا کرتے ہیں وہ نوران کی عقلوں میں ہے اور خدا اور رسول کے لئے محبت کے جو جذبات ایک مسلمان کے دل میں پیدا ہو سکتے ہیں وہ جذبات ان لوگوں کے دلوں میں ہیں۔بڑی ہی مخلص جماعتیں وہاں پیدا ہو چکی ہیں اللہ تعالیٰ نے اس وقت آسمان سے کچھ ایسے سامان پیدا کئے ہیں کہ جن ملکوں کو میں نے دیکھا ہے اور امریکہ وغیرہ جن کے متعلق میں نے باتیں سنیں اس سے میں اس یقین پر قائم ہو گیا ہوں کہ ان ملکوں میں عیسائیت ختم ہو چکی ہے۔وہ چیزیں جو میں نے دیکھیں یا وہ باتیں جو آج خود پادری کہتے ہیں اور اخباروں میں شائع کرتے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ عیسائیت یقینی طور پر مٹ چکی ہے ان کا ذکر تفصیل کے ساتھ تو انشاء اللہ کسی اور موقع پر بیان کروں گا یا رسالے یا دو ورقوں کی شکل میں احمدیوں کے سامنے بھی اور دیگر مسلمان بھائیوں کے سامنے بھی آجائیں گی اور عیسائیوں کے سامنے بھی آجائیں گی ان کے اپنے مونہوں سے نکلی ہوئی باتیں جو ثابت کرتی ہیں کہ عیسائیت ختم ہو چکی ہے اُس دنیا کے سامنے تو آ چکی ہیں اور اس دنیا کے سامنے یعنی ہمارے ملکوں میں اپنے وقت پر پیش کر دی جائیں گی۔اس وقت میں یہ حقیقت بیان کرنا چاہتا ہوں کہ عیسائیت ان ملکوں میں مرچکی ہے اور ایک خلاء پیدا ہو گیا ہے اس خلا کو پر کرنا ، اسلام کے غلبہ کے لئے وہاں کوشش کرنا یہ ہمارا کام ہے کیونکہ اس خلاء کو سوائے اسلام کے اور کوئی مذہب پر نہیں کر سکتا اور اگر ایک ظلمت دور ہو اور اس کی جگہ ایک دوسری ظلمت